ممبئی: 24فروری2021 دادرانگر حویلی کے سات بار کے ممبرپارلیمنٹ آخر اتنے بے بس کیسے ہوگئے کہ انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا؟۔ اس کا جواب انہوں نے ایک ویڈیو اور پارلیمنٹ میں اپنی تقریر وں میں دیا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سالوں میں ان پر کس قدر دباؤ ڈالا جارہا تھا اور کس طرح انہیں بدنام کرنے کی دھمکی دی جارہی تھی
۔ انہوں نے اپنی ویڈیو میں بی جے پی لیڈران کا تذکرہ بھی کیا تھا نیز اپنی موت سے قبل لکھے گئے خودکشی نوٹ میں بی جے پی کے گجرات کے سابق وزیر اور فی الوقت دادرا نگر حویلی کے نگراں پرفل پٹیل کا نام لیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موہن ڈیلکر بی جے پی کی جانب سے پریشان کیے جانے سے عاجز ہوکر خودکشی کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موہن ڈیلکر نے یہ سوچ کر ممبئی میں آکر خودکشی کی کہ کم ازکم مرنے کے بعد ان کے ساتھ انصاف ہو۔ اس لیے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈیلکر کی خودکشی معاملے کی باریک بینی سے تفتیش کرتے ہوئے ڈیلکر کے اہلِ خانہ کو انصاف دے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے ریاستی
وزیرداخلہ انیل دیشمکھ سے کیا ہے۔ ساونت نے ایک وفد کے ساتھ وزیرداخلہ سے آن لائن ملاقات کی جس کے بعد وزیرداخلہ نے وفد کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے میں بی جے پی کے رول کی تفتیش کرائیں گے۔
اس ضمن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ ایک ممبرپارلیمنٹ کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے، انہیں اور ان کے ساتھیوں کو پریشان کرنے
نیز انتظامیہ، پولیس وتفتیشی ایجنسیوں اور مقامی غنڈوں کے ذریعے ہراساں کیے جانے کے بارے میں موہن ڈیلکر نے مرنے سے قبل کے اپنے ایک ویڈیو پیغام پوری وضاحت کردی تھی۔ جب انہوں نے پوچھا کہ آپ ہمیں پریشان کیوں کررہے ہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ اوپر سے آرڈر ہے۔ ڈیلکر نے کہا تھا کہ یہ معاملہ انگریزوں کے دور میں ہراساں کیے جانے سے بھی سنگین ہے۔ اسی کے ساتھ وہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے کر بھی اپنی آپ بیتی بیان کرنے والے تھے۔ کچھ دن قبل پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں انہوں نے اپنی تقریر میں اس معاملے میں اپنی صورت حال بیان کی تھی جس میں انہوں نے یہ بتایا تھا کہ کس طرح انہیں پریشان کیا جارہا ہے اور کس طرح جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کر بدنام کیا جارہا ہے۔
سچن ساونت نے کہا کہ وزیرداخلہ کے مطابق ممبئی میں خودکشی کرنے سے قبل 16صفحے کا خودکشی نوٹ لکھا ہے جس میں پولیس، انتظامیہ کے افسران کے ساتھ بی جے پی کے لیڈران وگجرات کے سابق وزیرداخلہ ودادرانگر حویلی کے نگراں پرفل پٹیل کا نام ہے۔ پرفل پٹیل بی جے پی کے بڑے لیڈر ہیں اور آرایس ایس کے قریبی ہیں۔ اس لیے ہم نے وزیرداخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں بی جے پی لیڈران کے رول کی تفتیش کی جائے، جسے وزیرداخلہ نے منظور کرتے ہوئے تفتیش کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سچن ساونت نے کہا کہ ملک بھرکی دیگر ریاستوں میں حزبِ اختلاف کے لیڈران، ایم ایل اے، ممبران پارلیمنٹ وریاستی حکومتوں کو اسی طرح سے پریشان کیا جارہا ہے۔ مرکزی حکومت اپنی تفتیشی ایجنیسوں کے ذریعے مہاراشٹر میں ممبران اسمبلی وپارلیمنٹ کو اسی طرح سے ہراساں کیا جارہا ہے۔ ساونت نے کہا کہ موہن ڈیلکر کی موت سے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا ملک میں جمہوریت ہے؟۔ ریاستی وزیرداخلہ سے ملاقات کرنے والے وفد میں کانگریس کے ڈاکٹر راجوواگھمارے، سوشل میڈیا کے ونایک کھامکر بھی موجود تھے۔