• 425
    Shares

ملک بھر میں فری ویکسینیشن کرائی جائے اور ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو نفع خوری سے روکا جائے

مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کا مرکزی حکومت سے مطالبہ

ممبئی: مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں فری ویکسینیشن کرائے نیز ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے ذریعے کی جارہی نفع خوری پر روک لگائے۔ یہ مطالبہ ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے نے وزیراعظم نریندرمودی کو دیے گیے ایک میمورنڈم کے ذریعے کیا ہے جو انہوں نے ایک وفد کی شکل میں پونے کے ڈویژنل کمشنر سوربھ راؤ سے ملاقات کے بعد سونپا ہے۔

ڈویژنل کمشنر کو میمورنڈم سونپنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کورونا سے صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔ روزآنہ دوہزارسے زائد لوگوں کی موت واقع ہورہی ہے۔ اسپتالوں میں بیڈس تک نہیں مل پارہے ہیں جو مرکزی حکومت کی غیرمنصوبہ بند اقدامات کے نتائج ہیں۔ کورونا کے پہلی لہر کے بعد سے ہی ویکسینیشن کی ضمن مناسب منصوبہ بندی کی جانی چاہیے تھی لیکن اس جانب سے عدم توجہی برتی گئی۔ ویکسینیشن سے کورونا کے پھیلاؤ پر کافی حد تک قابوپایا جاسکتا ہے جس کا مظاہرہ آج پوری دنیا میں کیا جارہا ہے، مگر مرکزی حکومت نے اس کے بارے میں کوئی بہتر منصوبہ بندی نہیں کی۔ ملک بھر میں صرف دو کمپنیوں کو ویکسین بنانے کی منظوری دی گئی جو ملک کی ضروریات کے پیشِ نظر ناکافی تھی۔ اس کے علاوہ فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ ویکسین کے لیے مرکز کو 150روپئے، ریاستی حکومت کو 400روپئے اورپرائیویٹ اسپتالوں کو 600روپئے ادا کرنا پڑے گا۔ہمارا مطالبہ ہے کہ قومی آفت کے اس دور میں ان کمپنیوں کی نفع خوری روکی جائے اور ملک بھر میں تمام لوگوں کو فری میں ویکسین دی جائے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ جو ممالک اپنے یہاں 70سے 80فیصد ویکسینیشن میں کامیاب ہوئے،وہ آج کورونا فری ہوچکے ہیں۔ وہاں لاک ڈاؤن ختم ہوچکا ہے اور خاص بات یہ کہ ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بچ گئیں ہیں۔ اس تناظر میں ہماری بھارت سرکاراگر سبق لیتے ہوئے کوئی ایسی منصوبہ بندی کرتی تو بہتوں کی زندگیاں بچ گئی ہوتیں۔ لیکن مرکزی وزارت صحت کی جانب سے مارچ کے پہلے ہفتے میں یہ اعلان کردیا گیا کہ کورونا اب ملک سے جاچکا ہے،جس کے بعد ریاستی حکومتوں نے اپنے یہاں کے کووِڈ سینٹر بند کردیئے۔ مرکزی وزارت صحت نے سبھی کو غافل کردیا اور اس کے بعد ملک بھر میں موت کا جو رقص دیکھا جارہا ہے وہ رونگٹے کھڑے کردینے والا ہے۔ دہلی میں سرگنگارام اسپتال میں آکسیجن کی قلت کی وجہ سے 26لوگوں کی زندگیاں ختم ہوگئیں۔ اگر ملک کی راجدھانی دہلی میں یہ حالت ہے تو ملک کے دیگرحصوں کی کیا حالت ہوسکتی ہے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ملک کی 130کروڑ عوام کو ویکسین کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت صرف سیرم انسٹی ٹیوٹ و بھارت بایوٹیک سے پورا ہونا ممکن نہیں۔ اس کے لیے مزید منصوبہ بندی کی ضرورت تھی۔ ویکسینیشن کے لیے اگرکوئی قومی پالیسی بنائی گئی ہوتی تو ریمیڈیسیور وآکسیجن کی اس قدر قلت نہیں ہوتی۔ ان خامیوں کے لیے صرف اور صرف مرکز کی غلط پالیسی ہی ذمہ دار ہے۔ کورونا کے ضمن میں سونیاگاندھی، راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو متعددبار تجاویز دیں مگر انہیں نظر انداز کیا گیا۔ مودی حکومت کا یہی اڑیل رویہ لوگوں کی زندگیوں کا دشمن بن گیا ہے۔

ناناپٹولے کے مطابق ریاستوں کو ان کی مانگ کے مطابق ویکسین فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ دیگر بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں کی بہ نسبت مہاراشٹر کو کم ویکسین دی جارہی ہے، اس کے بعد بھی مہاراشٹر نے ملک بھر میں سب سے زیادہ ویکسینیشن کیا ہے۔ اب ویکسین کا 50فیصد ذخیرہ مرکزی حکومت کو ملے گا جبکہ 50فیصد ریاستوں کو ملے گا۔ اس سے ریاستوں کے مابین تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے جسے روکنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مہاراشٹر نے غیرملکی ویسکین درآمد کنے کی اجازت طلب کی ہے۔ گوکہ مرکزی حکومت اس معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہی ہے مگر مہاراشٹر حکومت اپنی ذمہ داری ضروربالضرور ادا کرے، یہ کانگریس کا موقف ہے۔ ناناپٹولے کی سربراہی میں ڈویژنل کمشنر سے ملاقات کرنے والے وفد میں ایم ایل اے شرد رَن پِسے، ریاستی کانگریس کے نائب صدر موہن جوشی، پونے کانگریس کے صدر رمیش باگوے، ریاستی ترجمان اتل لونڈھے، این ایس یو آئی کے ریاستی صدر آمر شیخ، سابق وزیر بالاصاحب شیورکر، سابق ایم ایل اے دپتی چودھری، ریاستی ترجمان گوپال تیواری، میونسپل کارپوریشن میں گروپ لیڈر ابا باگول، ریاستی جنرل سکریٹری ابھیے چھاجیڑ، اروند شندے اور سنجیے بالگوڈے موجود تھے۔

Letter to PM 24 april 21.pdf

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔