مرکز کی مودی حکومت انگریزوں سے زیادہ ظالم وجابرہے: ناناپٹولے

فیض پور کی تاریخی سرزمین پرسیاہ زرعی قوانین کی کاپیاں نذرِآتش

کسانوں سے خطاب کے بعد ناناپٹولے کا شمالی مہاراشٹر کے دورے کی شروعات

فیض پور(جلگاؤں): مرکز کی مودی حکومت انگریزوں کی حکومت سے زیادہ ظالم وجابر ہے۔ یہ حکومت کسان ومزدور مخالف ہے اور کسانوں کو سرمایہ داروں کا غلام بناکر انہیں برباد کردینا چاہتی ہے۔ کسانوں کو تباہ کرنے کے لئے ہی اس نے تین سیاہ زرعی قوانین بنائی ہے۔ اس حکومت کو جڑ سے اکھاڑے بغیر اس ملک کے کسانوں ومحنت کشوں کے اچھے دن نہیں آنے والے ہیں۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کی ہے۔

آل انڈیا کانگریس کا پہلا دیہی کنونشن جس فیض پور میں منعقد ہوا تھا، اسی فیض پور کے دھاناجی کالج کے احاطے میں مرکزی حکومت کے کسان مخالف قوانین کی کاپیاں نذرِ آتش کرنے کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر ناناپٹولے نے اپنے شمالی مہاراشٹر کے دورے کی شروعات کی۔ اس موقع پر ریاستی صدر کے ساتھ کانگریس کے ریاستی کارگزار صدر ایم ایل اے پرنیتی شندے، ریاستی نائب صدر ایم ایل اے شریش چودھری، کسان کانگریس کے قومی نائب صدر شیام پانڈے، ریاستی ترجمان اتل لونڈھے، سابق وزیر شوبھاتائی بچھاؤ، ڈاکٹر الہاس پاٹل، جلگاؤں ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر سندیپ پاٹل اورپرمود مورے سمیت کانگریس کے عہدیداروکارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔

اس موقع پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ مرکز کی ظالم وجابر مودی حکومت کے پاس کسانوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ تینوں سیاہ زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحد پر کسان گزشتہ ۷ماہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ اس احتجاج کے دوران تقریباً 400کسانوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے۔ لیکن آوازسنی جانے تک کے فاصلے پر موجود نریندرموی نے کسانوں سے ملاقات تک نہیں کی۔ کسان سردی، بارش اور دھوپ کی شدت کو جھیلتے ہوئے احتجاج کررہے تھے اور مودی مغربی بنگال جاکر انتخابی ریلیاں کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا واضح موقف ہے کہ یہ تینوں زرعی قوانین رد ہونے چاہئیں۔ عام لوگوں کی فلاح وبہود کے لئے کانگریس پارٹی پارلیمنٹ وپارلیمنٹ کے باہر سڑکوں پر بی جے پی کی ظالم وجابر حکومت کے خلاف جدوجہد کررہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔عوام کا مفاد ہی کانگریس کے لئے سب سے اہم ہے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ ملک میں کورونا کے بحران پر قابو پانے میں مودی حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، محترمہ سونیاگاندھی وراہل گاندھی نے کورونا کی روک تھام کے لئے نہایت اہم مشورے دیئے تھے لیکن ان مشوروں کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کا خمیازہ آج پورے ملک کو ہزاروں لوگوں کی بلی دے کر بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کل ہی راہل گاندھی نے کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر مناسب اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ دو لہروں کے دوران مودی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی ہیں۔ کم ازکم اب تو مودی حکومت نیندسے بیدار ہو اور تیسرے لہر سے مقابلے کے لئے مناسب اقدام کرے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ گزشتہ سات سالوں کے دوران ملک میں زبردست انتشار پیدا ہوا ہے۔ فصلوں کے انشورنش اسکیم کے ذریعے بھی کسانوں کو لوٹا جارہا ہے۔ پٹرول، ڈیژل وخوردنی تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ان سب کے خلاف کانگریس پارٹی احتجاج کررہی ہے۔ کورونا کی پابندیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہیں اتراجاسکتا، اس کے باوجود کانگریس نے کورونا کی پابندیوں کی پاسداری کرتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت میں صرف ان کے مٹھی بھرصنعتکار دوستوں کو فائدہ ہوا اور ملک کی عوام تباہ ہوئی ہے۔ 2024کے انتخاب میں عوام بی جے پی کو اس کی اوقات دکھادے گی۔ ناناپٹولے نے جلگاؤں ضلع کے مختلف مقامات پر کسانو ں سے خطاب کیااور ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ انہوں نے کانگریس کی جانب سے جاری امدادی کاموں کا جائزہ لینے کے علاوہ کئی کووڈ سینٹر کا دورہ بھی کیا۔ اس دورے کے دوران کانگریس پارٹی کے کارکنان وکسانوں نے ان کا جگہ جگہ استقبال کیا۔