MPCC Urdu News 22 April 24

ڈاکٹر منموہن سنگھ پر نریندر مودی کا بیان جھوٹا، آدھی ادھوری باتوں سے سماج میں نفرت پھیلانے کی کوشش: ڈاکٹر بھال چندر منگیکر

اقتدار جانے کے خوف سے نریندر مودی مایوس، مذہبی پولرائزیشن کی بی جے پی اور نریندر مودی کی سازش

نریندر مودی کا یہ بیان کہ آئین نہیں بدلا جائے گا جھوٹا ہے، بی جے پی نے ابتدا سے ہی ڈاکٹر امبیڈکر کے آئین کی مخالفت کی ہے

ممبئی: ملک کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ملک کے وسائل پر پہلا حق صرف مسلمانوں کا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کے حوالے سے جو بیان دیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ سابق وزیر اعظم کے بیان سے صرف ایک جملہ لے کر نریندر مودی ملک میں جھوٹے منفی جذبات پھیلا رہے ہیں۔ یہ باتیں کانگریس کے لیڈر اور سابق ایم پی ڈاکٹر بھال چندر منگیکر نے کہی ہیں۔

تلک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر بھل چندر منگیکر نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بارے میں نریندر مودی کے بیان پر ان کی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ 9 دسمبر 2006 کو نیشنل ڈیولپمنٹ بورڈ کی میٹنگ میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ ملک کے دلتوں، قبائلیوں، او بی سی، خواتین، بچوں و اقلیتی برادری کو بھی مکمل ترقی ملنی چاہیے، ان کو بھی ترقی کا فائدہ ملنا چاہیے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بیان کا مطلب یہ تھا کہ ملک کی ترقی میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی و اقلیتوں کا پہلا حق ہے۔ اس میٹنگ کے بعد اہلوالیہ اور خود انہوں نے پریس کانفرنس میں مزید جانکاری دی تھی۔ اقلیت کا مطلب صرف مذہبی اقلیت ہی نہیں بلکہ لسانی اقلیت بھی ہے۔

ڈاکٹر بھال چندر منگیکر نے کہا کہ اس میٹنگ میں اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی سمیت تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی تھی۔ مودی کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو ملک کی املاک پر پہلا حق مسلمانوں کا ہوگا اور اس میں زیادہ بچے پیدا کرنے والے مسلم طبقے کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا۔ مودی نے جھوٹے بیانات دے کر مذہبی پولرائزیشن کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز شخص کے لیے ایسا بیان دینا مناسب نہیں۔ پہلے مرحلے میں 102 لوک سبھا سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہو چکی ہے اور تصویر صاف ہے کہ بی جے پی الیکشن ہار رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی 400 پار کا نعرہ لگا کر خود مایوسی کے شکار ہو گئے ہیں

ڈاکٹر منگیکر نے سوال کیا کہ جب 1952 سے یونیفارم سول کوڈ بی جے پی کا ایجنڈا ہے تو پھر بی جے پی نے ابھی تک ایسا ضابطہ اخلاق کیوں نہیں بنایا جو سب کے لیے قابل قبول ہو؟ یونیفارم سیول کوڈ کے معاملے میں بھی بی جے پی لوگوں میں الجھن پیدا کر رہی ہے۔ بی جے پی مسلسل ایسی تصویر بنا رہی ہے کہ مسلم کمیونٹی مساوی شہری قانون کو قبول نہیں کرتی۔ بی جے پی لیڈر اپنے منشور کے بارے میں بات نہیں کرتے کیونکہ لوگ اب ان پر بھروسہ نہیں کرتے۔ انہوں نے 2019 کے وعدوں کو ’انتخابی جملہ‘ کہہ کر عوام کو دھوکہ دیا ہے۔

بھال چندرمنگیکرنے کہا کہ بی جے پی ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کو بھی نہیں مانتی۔ اسی لیے بی جے پی لیڈر آئین کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔ واجپائی حکومت کے دور میں بھی آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اننت کمار ہیگڑے اور وزیر اعظم مودی کے اقتصادی مشیر وویک دیبرائے نے بھی کھلے عام کہا ہے کہ ملک کو نئے آئین کی ضرورت ہے۔ منگیکر نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ نریندر مودی لگاتار کہہ رہے ہیں کہ آئین کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، لیکن کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا۔ کیونکہ بی جے پی نے شروع سے ہی ڈاکٹر امبیڈکر کے دستور کی مخالفت کی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading