MPCC Urdu News 21 November 25

مالیگاؤں عصمت دری و قتل کے مجرمین کو پھانسی دی جائے: ہرش وردھن سپکال

ریاست میں خواتین و بچیوں کے تحفظ اور امن و قانون کی ساکھ ختم ہو چکی ہے، حکومت مجرموں کی پشت پناہی میں مصروف

ممبئی: مالیگاؤں میں تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کا ہولناک واقعہ ریاستِ مہاراشٹر کے امن و قانون پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔ اس سفاک جرم نے نہ صرف عوام میں غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی آشکار کر دیا ہے کہ مہایوتی حکومت کے دور میں خواتین اور بچیوں کی سلامتی محض قسمت کے سہارے چھوڑ دی گئی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مقدمے کو فوری فاسٹ ٹریک عدالت میں چلا کر مجرم کو سزائے موت سنائی جائے، تاکہ انصاف میں تاخیر مزید کسی المیے کو جنم نہ دے۔

اس واقعے پر اپنا ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ریاست کی امن و قانون کی صورتحال حد درجہ تشویش ناک ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق کویتا گینگ، ڈرگ مافیا، ریت مافیا اور جرائم پیشہ گروہوں کا بے خوف دندناتے پھرنا دراصل حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی سرپرستی نے مجرموں کے حوصلے اتنے بلند کر دیے ہیں کہ قانون کا خوف تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ ستم یہ کہ جن افراد پر سنگین جرم یا بدعنوانی کے مقدمات ہیں، وہ برسراقتدار پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں، گویا حکومت نے خود ہی جرائم پیشہ عناصر کو تحفظ کا سرکاری لائسنس دے رکھا ہے۔ مالیگاؤں کے واقعے کے بعد عوام کے غم و غصے کی شدت عدالت میں پیشی کے وقت صاف دیکھی جا سکتی تھی، جسے سپکال نے عوام کے صبر کے ٹوٹ جانے کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اب بھی حکمران طبقہ نہ جاگا تو عوام کا اشتعال ایک دن ان کی کرسیوں کو جڑ سے ہلا کر رکھ دے گا۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ پولیس کا پورا نظام صرف اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائی، دھمکیوں اور فون ٹیپنگ پر لگا ہوا ہے، جبکہ حقیقی جرائم پیشہ افراد آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا رویہ یہی رہا تو ریاست میں قانون کی موجودگی صرف کتابوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ سپکال نے پھلٹن کی ڈاکٹر سمپدا مُنڈے کی خودکشی کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے سیاسی اور انتظامی ہراسانی سے تنگ آکر اپنی جان لے لی تھی۔ ان کے مطابق اس کیس میں حکمراں جماعت کے سابق رکن پارلیمنٹ رنجیت سنگھ نمبالکر کا نام سامنے آنے کے باوجود وزیر اعلیٰ جو خود وزیر داخلہ بھی ہیں،نے کسی قسم کی تفتیش کا حکم دینے کے بجائے انہیں بلا تحقیق کلین چٹ دے دی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر سمپدا کو آج تک انصاف نہیں ملا، جبکہ نامزد افراد حکومتی سرپرستی میں آج بھی باعزت گھوم رہے ہیں۔

اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ہرش وردھن سپکال نے آج ضلع چھترپتی سنبھاجی نگر کے پھلمبری اور پیٹھن میں مختلف جائزہ میٹنگیں اور کارکنان سے مشاورت کی۔ بعدازاں وہ بھوکردن میں ایک عوامی جلسے سے خطاب بھی کیا، جس میں رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کلیان کالے، سابق رکن پارلیمنٹ تکارام رینگے پاٹل، سیوا دل کے ریاستی صدر ولاس اوتاڈے، ضلع صدر کرن پاٹل ڈونگاوںکر، ریاستی نائب صدر راجندر راکھ، کلیان ڈلے، ریاستی سیکریٹری کمال فاروقی اور دیگر رہنما موجود تھے۔

MPCC Urdu News 21 November 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading