نریندر مودی کی مدد سے ملک کو لوٹنے والے اڈانی کو گرفتار کرنے کا راہل گاندھی کا مطالبہ درست: نانا پٹولے

ممبئی: کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے صنعتکار گوتم اڈانی کے خلاف امریکی عدالت کی جانب سے جاری گرفتاری کے وارنٹ پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوتم اڈانی پر ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے 2000 کروڑ روپے کی رشوت دینے کا الزام انتہائی سنگین ہے اور یہ واقعہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے شرم کا باعث ہے۔ نانا پٹولے نے الزام لگایا ہے کہ مودی سرکار نے اپوزیشن کے وزرائے اعلیٰ کو کرپشن کے بے بنیاد الزامات میں جیل میں ڈال دیا، لیکن اڈانی جیسے صنعتکار کے خلاف امریکی تحقیقاتی ایجنسی کے انکشافات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

پٹولے نے کہا کہ راہل گاندھی کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ حکومت ہند فوری طور پر گوتم اڈانی کے خلاف تحقیقات کر کے انہیں گرفتار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈانی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی مدد سے نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی غیر منصفانہ طریقوں سے ٹھیکے حاصل کیے ہیں اور ملکی وسائل کو بے دردی سے لوٹا ہے۔

نانا پٹولے نے الزام لگایا کہ اڈانی نے مودی سرکار کے آشیرواد سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بجلی کے شعبوں میں اجارہ داری قائم کر لی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھاراوی بحالی منصوبے کے نام پر ممبئی کی کروڑوں روپے مالیت کی زمین مقامی رہائشیوں کو بے دخل کر کے اڈانی کو دی گئی۔ اسی طرح، ممبئی ایئرپورٹ کا کنٹرول بھی اڈانی کے حوالے کر دیا گیا، جس کے پیچھے نریندر مودی کی مکمل حمایت کارفرما ہے۔

کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا کہ جب امریکہ گوتم اڈانی کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتا ہے تو بھارت میں مودی حکومت کیوں خاموش ہے؟ پٹولے نے زور دیا کہ ملک کو لوٹنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، اور اڈانی جیسے افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا وقت کی ضرورت ہے۔

نانا پٹولے نے مزید کہا کہ حکومت کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے اور وزیر اعظم مودی کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ اڈانی کے خلاف کارروائی سے کیوں گریزاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی عوام اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا مودی حکومت صنعتکاروں کی پشت پناہی کے لیے اقتدار میں ہے یا عوام کی خدمت کے لیے؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading