MPCC Urdu News 21 December 25

میونسپل انتخابات میں حکمراں پارٹیوں کی جیت الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں ہوئی: ہرش وردھن سپکال

الیکشن کمیشن کی بدنظمی، جعلی ووٹنگ، دولت اور اقتدار کا کھلا غلط استعمال

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے میونسپل اور میونسپل کونسل انتخابات کے نتائج پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان انتخابات میں الیکشن کمیشن کا غیر ذمہ دارانہ اور بدنظمی پر مبنی کردار پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹوں اور انتخابی عمل میں شدید گڑبڑ کی گئی، تاریخ پر تاریخ کا کھیل کھیلا گیا اور مجموعی طور پر یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں رہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ حکمراں پارٹیوں نے انتخابات کے دوران سام، دام، دنڈ، بھید کی پالیسی کا کھلے عام استعمال کیا۔ جعلی ووٹرز، دباؤ، سرکاری طاقت کا غلط استعمال اور پیسے کی بھرمار کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں پارٹیوں کی جیت میں الیکشن کمیشن کا کردار نہایت اہم رہا اور کمیشن نے عملاً اقتدار کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر کام کیا۔

سپکال نے کہا کہ بی جے پی مہا یوتی حکومت کی کارکردگی سے عوام میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔ بدعنوانی اپنے عروج پر ہے، عوامی مسائل حل نہیں ہو رہے، ایسے میں جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ عوامی فیصلے کی عکاسی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق جمہوریت اور آئین کو پامال کرتے ہوئے کھلی دباؤ کی سیاست کی گئی اور ’پیسہ پھینکو، تماشا دیکھو‘ والا کھیل پورے انتخابی عمل میں نظر آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہی وجوہات کی بنا پر کانگریس پارٹی کو ان انتخابات میں وہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی جس کی توقع تھی۔ تاہم انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کانگریس کی یہ جدوجہد کسی ایک انتخاب تک محدود نہیں بلکہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی ایک نظریاتی لڑائی ہے، جو مستقبل میں بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔

ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ میونسپل انتخابات میں بی جے پی کو حاصل ہونے والی کامیابی دراصل ایکناتھ شندے کی شیو سینا اور اجیت پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کے بقول بی جے پی اپنے سیاسی مفاد کے لیے مستقبل میں ان دونوں اتحادی جماعتوں کو کنارے لگا سکتی ہے، کیونکہ بی جے پی کی سیاست میں شراکت داروں کے لیے مستقل جگہ نہیں ہوتی۔

MPCC Urdu News 21 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading