: نانا پٹولے
جب کسانوں کو پیاز کی قیمت نہیں مل رہی تھی تو کیا مودی حکومت سورہی تھی؟
پیاز کسانوں کا احتجاج درست، کانگریس کسانوں کے ساتھ ہے
ممبئی:پچھلے کچھ دنوں سے کسانوں کو پیاز کی اچھی قیمت مل رہی تھی، جس سے انہیں کچھ پیسے کا فائدہ ہو رہا تھا۔ لیکن مرکز کی کسان مخالف بی جے پی حکومت سے کسانوں کی یہ خوشی برداشت نہیں ہوئی۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کرنے والی مودی حکومت نے پیاز کی ایکسپورٹ ڈیوٹی میں 40 فیصد تک اضافہ کر دیا۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے کسانوں کی حالت مزید خراب ہو جائے گی جو پہلے سے ہی معاشی بحران کا شکار ہیں۔یہ بات کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہی ہے۔
مودی حکومت کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پٹولے نے کہا کہ گرمیوں میں پیاز کی قیمت 300 سے 400 روپے فی کوئنٹل تھی۔ جس کی وجہ سے کسانوں کی پیداواری لاگت بھی نہیں نکل پارہی تھی۔ کسانوں کی مدد کے لیے کانگریس نے شندے-فڈنویس حکومت سے سبسڈی دینے کامطالبہ کیا، جس کے بعد کسانوں کو امداد کے طور پر 350 روپے فی کوئنٹل دینے کا اعلان کیا گیا، لیکن انہیں یہ رقم بھی نہیں ملی۔ فی الحال کسانوں کو پیاز کے لیے 2000 سے 2500 روپے فی کوئنٹل مل رہے ہیں۔ تہوار کے موسم میں کسانوں کو چار پیسے مل رہے تھے، لیکن جیسے ہی کسان مخالف مودی حکومت نے پیاز پر ایکسپورٹ ڈیوٹی بڑھا کر 40 فیصد کر دی، پیاز کی قیمت 1600 روپے سے نیچے آگئی۔ بی جے پی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خوردہ بازار میں پیاز کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے لیا گیا ہے۔ اگر مودی سرکار واقعتا مہنگائی کم کرکے عوام کو راحت پہنچاناچاہتی ہے تو وہ مارکیٹ میں ایل پی جی گیس سلنڈر کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل اور دیگر ضروری اشیاء کی مہنگائی کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرتی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ پیاز کی برآمد پر ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کسانوں کو برباد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ مٹھی بھر سرمایہ داروں کے مفاد میں فیصلے کرنے والی مودی حکومت کے دور میں ملک کے کسانوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور دونوں نائب وزرائے اعلی کو دہلی کی بی جے پی حکومت سے رجوع کرنا چاہیے اور پیاز کے کسانوں کے فائدے کے لیے 40 فیصد ایکسپورٹ ڈیوٹی کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ عوام کی حکومت ہونے کادکھاوا کرنے والے لیڈروں کو ریاست میں کھوکھلے دعوے کرکے شور مچانے کے بجائے دہلی کی مودی حکومت کے سامنے اپنا دم خم دکھانا چاہیے۔ پٹولے نے کہا کہ ریاست میں پیاز کے کسانوں نے ایکسپورٹ ڈیوٹی میں اضافے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔ کانگریس اس مطالبے کو درست مانتے ہوئے کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ اگر کسانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا تو کانگریس سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔
تلاٹھی امتحان میں نقل روکا جائے
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں تلاٹھی کے عہدہ کے لیے امتحان چل رہا ہے اور اس امتحانی عمل کے آغاز سے ہی طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ بہت سے طلباء کو ان کے گاؤں اور شہروں سے دور دراز علاقوں میں امتحانی مراکز فراہم کرنے سے تکلیف ہوئی ہے۔ پہلے دن پرچہ لیک ہوگیا اور پیر کو امتحان جو صبح 10.30 بجے شروع ہونا تھا کئی مراکز پر سرور ڈاؤن ہونے کی وجہ سے دوپہر 2 بجے شروع ہوا۔ حکومت اور امتحان کا انعقاد کرنے والے ٹھیکیدار یہ کہہ کر ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے کہ سرور ڈاؤن ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔ حالانکہ اس امتحانی فیس کے ذریعے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم جمع ہو چکی ہے، لیکن امتحان کیوں نہیں چل رہا ہے؟ ابھی دو دن بھی نہیں گزرے ہیں کہ وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ تلاٹھی کا امتحان ٹھیک سے کرانا حکومت کا فرض ہے لیکن اس فرض پرپانی پھرگیا ہے۔ پٹولے نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ حکومت کو امتحان کے انعقاد کے نظام کو درست رکھنا چاہئے ورنہ انہیں طلباء کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔