NCP-SP Urdu News 20 Nov. 25

ہماری پالیسی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ہے: سپریا سولے

مہایوتی حکومت میں سیاسی انتشار، بی جے پی کی بدلتی روش، انٹیلی جنس ناکامیوں پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ

ممبئی: پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل ملک کی سیاسی فضا ایک بار پھر تنازعات اور سوالات سے گزر رہی ہے، جہاں دہلی دھماکے اور پہلگام واقعے میں انٹیلی جنس نظام کی ممکنہ ناکامی نے حکومت کے سامنے جواب دہی کا نیا چیلنج رکھ دیا ہے۔ این سی پی- ایس پی کی قومی کارگزار صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا اتحاد پارلیمنٹ کے اجلاس میں ان اہم معاملات پر جامع بحث کا مطالبہ کرے گا کیونکہ یہ واقعات محض سیکورٹی ناکامی کی نہیں بلکہ حکومتی حساسیت کے زوال کی علامت بن چکے ہیں۔

مہایوتی حکومت میں بڑھتے اختلافات پر بات کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ کابینہ کی پالیسی، انتظامی فیصلے اور ذاتی سیاسی جذبات کو علیحدہ رکھنا ناگزیر ہے۔ اگر کسی لیڈر کو ناراضی ہے تو اسے فیصلہ سازی میں مداخلت کا جواز نہیں بننا چاہیے، کیونکہ کابینہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں کام کرتی ہے اور وزارتی سطح پر تنظیمی مسائل اٹھانا مناسب نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وزیراعظم نریندر مودی خود کو پردھان سیوک کہتے ہیں تو کیا یہی اصول مہایوتی حکومت پر لاگو نہیں ہوتا؟ کیا عوامی خدمت کے نام پر قائم حکومت عوامی خدمت کے بجائے اندرونی رسہ کشی میں مصروف نہیں ہے؟

سپریا سولے نے بی جے پی کی موجودہ روش پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ زمانہ گزر گیا جب بی جے پی ایک باوقار اور شائستہ پارٹی سمجھی جاتی تھی۔ اٹل بہاری واجپائی اور سشما سوراج جیسے رہنماؤں کی فکر اور کردار ایک معیار تھا، جس کا احترام سیاسی اختلافات کے باوجود کیا جاتا تھا، مگر آج صورتحال اس کے بالکل برخلاف ہے جہاں ڈرگ مافیا، سنگین الزامات کے حامل افراد اور مختلف تنازعات میں گھِرے لوگ پارٹی میں شامل کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ بی جے پی انہیں لیڈروں کو اپنے دامن میں لے رہی ہے جن پر کبھی وہی شدید تنقید کیا کرتی تھی۔ اگر الزام تراشیاں ہی معیار ہیں تو پھر بی جے پی واضح کرے کہ کاشی ناتھ بھاؤ جیسے افراد کے بارے میں اس کا اصل مؤقف کیا ہے؟

بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں سپریا سولے نے کہا کہ آئندہ ہفتے پارٹی مشاورت کرے گی اور ادھو ٹھاکرے کے ساتھ بھی باضابطہ گفتگو کے بعد فیصلہ سامنے آئے گا۔ آئندہ ہفتے بھر میں پوری سیاسی تصویر واضح ہو جائے گی۔ پارٹی کی بنیادی حکمت عملی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجلی دمانیا نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے استعفے کا مطالبہ اٹھایا ہے، مگر چونکہ اس معاملے کی تفتیش خود وزیر اعلیٰ نے ہی شروع کرائی ہے، اس لیے اصل جواب دہی بھی وہی انجام دے سکتے ہیں۔

NCP-SP Urdu News 20 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading