
ممبئی: ریاستی اسمبلی انتخابات میں عوام کا زبردست جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر کے خوددار عوام ریاست کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بہتر حکومت کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جوش و جذبے اور ردعمل سے صاف ظاہر ہے کہ کانگریس اگھاڑی میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی اور مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت یقینی طور پر قائم ہوگی۔
نانا پٹولے نے اپنے آبائی علاقے بھنڈارا ضلع کے ساکولی اسمبلی حلقہ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابات میں آئینی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ونود تاوڑے کو ویرار کے ایک ہوٹل میں رقم تقسیم کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاوڑے، جن کے پاس وہ حلقہ نہیں تھا، وہاں کیا کر رہے تھے؟ تاوڑے کا یہ کہنا کہ وہ کارکنوں سے ملاقات کے لیے گئے تھے، بالکل غلط ہے، کیونکہ انتخابی مہم ختم ہونے کے بعد کسی بھی لیڈر کو حلقے میں رہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
پٹولے نے مزید کہا کہ اروی اسمبلی حلقہ میں بی جے پی امیدوار نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے قریبی معاون ہیں۔ وانکھیڑے کے گودام سے بڑی مقدار میں شراب کی بوتلیں برآمد ہوئی ہیں، حالانکہ وردھا ضلع میں شراب پر پابندی ہے۔ یہ شراب وہاں کیسے پہنچی؟ بی جے پی نے پیسوں اور شراب کے ذریعے ووٹرز کو لبھانے کی کوشش کی ہے، لیکن عوام نے ان کی ان کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔
بی جے پی کی جانب سے ’ووٹ جہاد‘ کے الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ اگر کوئی کمیونٹی کسی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کرتی ہے تو اسے بی جے پی ’جہاد‘ کہتی ہے۔ ووٹرز کو آئینی طور پر حق حاصل ہے کہ وہ جسے چاہیں ووٹ دیں۔ بی جے پی کے اس رویے کو عوام مسترد کریں گے۔ بٹ کوائن معاملے میں بی جے پی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ وائرل آڈیو کلپ میں جو آواز سنائی دے رہی ہے وہ ان کی نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کی طرف سے انہیں اور کانگریس پارٹی کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، اس لیے اسے حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کرنی چاہیے۔ بی جے پی کی جانب سے جھوٹی خبریں پھیلانے کی یہ کوشش شرمناک ہے۔ پٹولے نے خبردار کیا کہ اگر یہ پروپیگنڈا فوری طور پر نہ رکا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔