• 425
    Shares

ممبئی:چاہے پونے، پمپری چنچوڑ ہو یا دہلی ہو، بی جے پی گلی سے لے کر دلّی تک بدعنوانی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ بی جے پی کرپشن کی تمام حدوں کوپار کرلیا ہے لیکن الزام دوسرں کے سر منڈھتی ہے۔پار کر لی ہیں لیکن دوسروں پر الزام لگا رہی ہیں۔بی جے پی کی ہی مہربانیوں سے سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کے بلیک منی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی کی بدعنوانیوں کی وجہ سے ہی آج ملک تباہی کے دلدل میں جاچکا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی بدعنوانی وبدعنوانوں کا مرکز بن چکی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے بی جے پی پر یہ سخت تنقید آج پونے میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک گزشتہ 7 سالوں سے تباہی کی جانب جارہا ہے۔ مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 100 سے تجاوز کرگئی ہیں۔ بی جے پی اس اضافے کے لیے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یو پی اے حکومت کے دور کے آئل بانڈز کا نام دے کرمودی حکومت عوام کو گمراہ کررہی ہے۔جبکہ مودی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکس سے بھرپور منافع کمایا ہے۔کورونا کی صورتحال کو سنبھالنے میں بھی مودی حکومت ناکام رہی ہے۔اس کے نکمے پن کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی موت ہوچکی ہیں۔

بی جے پی کی جن آشیرواد یاترا پر تنقید کرتے ہوئے پٹولے نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے، کسانوں کے مسائل سنگین ہوچکے ہیں، لیکن بی جے پی حکومت کے پاس اس پر توجہ دینے کے لیے وقت نہیں ہے۔ پٹرول اور ڈیزل نے سو کے ہندسے کو عبور کر لیا ہے اور اب یہ دوسری سنچری بنانے کے لیے عوام سے آشیربادمانگ رہے ہیں۔ اس یاترا کے دوران بی جے پی کے وزراء کے بیانات کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ انہیں عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ لوگوں کی توجہ بنیادی مسئلے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کے کام کاج سے اب عوام بیزار ہوچکی ہے اور عوام ہی اب انہیں مناسب جواب دیں گے۔

آئیے راجیو گاندھی کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں

سابق وزیر اعظم بھارت رتن آنجہانی راجیو گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر پونے میں آل انڈیا پروفیشنل کانگریس کے زیر اہتمام ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے ریاستی صدر نانا پٹولے نے راجیوگاندھی کو خراج عقیدت پیش کہا کہ آنجہانی راجیو گاندھی نے ملک کو اکیسویں صدی میں لے جانے کا نہ صرف خواب دیکھا بلکہ اس کے لیے کام بھی کیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا کی بنیاد رکھی اور ہندوستان میں ٹیلی کام سیکٹر میں انقلاب برپا کیا۔ راجیو گاندھی کو اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن ہندوستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں آج کی پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ راجیو گاندھی کس قدر دور اندیش تھے۔

انہوں نے کہا کہ پونے میں آج تقریباً 10/ہزار لوگوں کو آئی ٹی سیکٹر میں روزگار مل رہا ہے۔دنیا بھر کے آئی ٹی سیکٹر میں آج ہندوستان کے لوگ کام کررہے ہیں اور یہ اگرممکن ہوسکا ہے تو صرف اور صرف راجیو گاندھی کی وجہ سے۔دیہی علاقوں کے بچوں کی معیاری تعلیم کے لیے انہوں نے نوودیہ اسکولوں کا قیام کیا۔ راجیوگاندھی نے ملک کی ترقی میں جو گرانقدرخدمات انجام دی ہیں وہ آنے والی نسل تک پہونچانے کی ذمہ داری ہمیں نبھانی چاہئے۔ انہوں نے ملک کی ترقی کے لیے جس راہ کی بنیاد ڈالی ہے اس پر چل کر ہی ملک ترقی کرسکتا ہے۔اس پروگرام میں ایم ایل اے شرد رن پسے، ریاستی نائب صدر موہن جوشی، ڈاکٹر رتناکر مہاجن، سابق وزیر بالا صاحب شیورکر،پونے شہر کے صدر رمیش باگوے، سنجے بالگوڈے، آبا باگول، کمل تائی ویوہارے، جنرل سکریٹری ابھے چھاجیڈ، این ایس یو آئی کے امیر شیخ، دیوانند پواراور روہت تلک وغیرہ موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔