ممبئی:شرڈی میں منعقدہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کے دو روزہ نوسنکلپ کیمپ کے دوران مختلف مسائل بشمول سیاسی اور سماجی مسائل پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کیمپ میں تمام عہدیداران نے اپنے خیالات پیش کیے اور اس سے ایک اہم دستاویز تیار کی گئی ہے۔ یہ دستاویز منشور سمیت مختلف اسکیموں کو نافذ کرنے کے لیے مفیدثابت ہوگا۔ چونکہ کانگریس پارٹی جمہوری اصولوں پر عمل کرنے والی پارٹی ہے، اس لیے اس کیمپ میں موجود تمام عہدیداروں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ان خیالات پر غور وفکر کیا گیا۔ کیا بی جے پی وآر ایس ایس میں ایسی جمہوریت ہے؟وہ صرف حکم دیتے ہیں۔یہ باتیں ریاستی کانگریس کے انچارج ایچ کے پاٹل نے کہیں۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام دو روزہ ورکشاپ شرڈی کے پنڈت جواہر لال نہرو ہال میں اختتام پذیر ہوا، ایچ کے پاٹل اس موقع پر خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر ریاستی صدر نانا پٹولے، کانگریس لیجسلیٹیو پارٹی کے لیڈر اور وزیرمحصول بالاصاحب تھورات، تعمیرات عامہ کے وزیر اشوک چوہان، سابق وزیر اعلیٰ سشیل کمار شندے، پرتھوی راج چوان، سابق مرکزی وزیر شیوراج پاٹل چاکورکر، سابق ریاستی صدر مانیک راؤ ٹھاکرے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور ریاستی کے نائب انچارج ، ریاستی کارگزارصدر، ممبرانِ پارلیمنٹ، ممبرانِ اسمبلی، ضلعی صدور وعہدیداران موجود تھے۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی صدر ناناپٹولے نے کہا کہ اس دو روزہ کیمپ میں اودئے پور اعلامیے پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے اور ’ایک شخص ایک، عہدہ‘ کے اصول کے مطابق اس کیمپ میں 51 عہدیداران مستعفی ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ کیمپ میں جو ۶ گروپ بنائے گئے تھے ان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویزات پر عمل درآمد کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔ حکومت اور پارٹی تنظیم کے درمیان ہم آہنگی اورتنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کسان مخالف ہے اور اس نے کسانوں کی تحریک کے دوران انہیں نکسلائٹ، دہشت گرد وآندولن جیوی کہہ کر کسانوں کی توہین کی تھی جس کی مذمت اس کیمپ میں کی گئی۔ پٹولے نے کہا کہ فڈنویس حکومت نے شیواجی مہاراج کے نام پر دھوکہ دہی پر مبنی کسان قرض معافی اسکیم کو لاگو کیا اور شیواجی مہاراج کی بھی توہین کی۔لیکن مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی اپنا وعدہ پورا کیا اورکسانوں کو مکمل قرض معافی دی۔اس نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا ۔ ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کسانوں، مزدوروں، دلتوں اور محروم طبقات کے مفادات کا تحفظ کرنے والی حکومت ہے ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کہا کہ شرڈی ورکشاپ میں دو روزہ غوروفکر کا جو نچوڑ سامنے آیا اس پر ایک رہنما کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ اب اس پر عمل درآمد کرنا ہے ۔ 100 دنوں کا پروگرام بنانا ہو گا، اس کے بعد آنے والے بلدیاتی انتخابات میں کانگریس پارٹی کویقینی طور پر اس کافائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ریاست مہاراشٹرکی آزادی سے قبل شرڈی میں یشونت راؤ چوہان کی قیادت میں ایک کنونشن منعقد ہوا تھا۔اس کنونشن میں اس وقت کے سرکردہ لیڈروں نے شرکت کی تھی۔جس طرح وہ کنونشن کانگریس کے لئے نہایت فائدہ مند ثابت ہوا تھا اسی طرح یہ کنونشن بھی کانگریس کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ انہوں نے اس ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر منتظمین ومعاونین کا شکریہ ادا کیا۔