ممبئی: بھارتیہ جنتا پارٹی بنیادی طور پر ایک ایسی پارٹی ہے جو مس کالز، ایوینٹ اور اشتہارات بازی پر قائم ہے۔ اس پارٹی کا کانگریس کے اشتہارات پر تنقید کرنا مضحکہ خیز ہے۔ سچائی یہ ہے کہ 400 پار کا نعرہ دینے والی بی جے پی کے پاس اس کے خود کے امیدوار تک نہیں ہیں۔ بی جے پی کی حالت ایسی ہے کہ اسے دوسری پارٹیوں کو ڈرا کر، دوسری پارٹیوں سے لوگوں کو توڑ کراپنا امیدوار بنانا پڑتا ہے۔ مگر دوسرے کی دھن پر ناچنے کا شوق بی جے پی و آشیش شیلار جیسے لیڈروں کو لگا ہوا ہے۔ اہنکاری ڈکٹیٹر کے دن اب لد چکے ہیں اور عوام کانگریس و اس کی حمایتی پارٹیوں کو منتخب کرے گی نیز ’ہاتھ‘ ہی ملک کی صورت حال کو تبدیل کرے گا۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔
ممبئی بی جے پی کے صدر آشیش شیلار کے بیان کا جواب دیتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی طرف سے لوک سبھا انتخابات کے لیے جاری کیے گئے پہلے اشتہار نے ہی اشیش شیلار اور بی جے پی کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ گزشتہ جملوں کا جواب بی جے پی کو دینا ہی پڑےگا جیسے سلگتے سوال کرنے سے ’ہاتھ بدلےگا حالات‘ کے عنوان سے کانگریس کے اشتہار پر تنقید کرنی پڑ رہی ہے۔ تنقید کرتے ہوئے اشیش شیلار کو اگر بیئر، وہسکی، وائن اور پیگ یاد آتے ہیں تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کی پارٹی اسی میں ہی غرق ہے۔ بی جے پی اور اشیش شیلار کا بدعنوانی پر بات کرنا اس دور کا سب سے بڑا مذاق ہے۔ ای ڈی، انکم ٹیکس، سی بی آئی کی کارروائی اور ان کی دھمکیاں دے کر ملک بھر کی تمام پارٹیوں کے بدعنوان لوگوں کو بی جے پی میں لایا گیا ہے۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی میں اس کے بنیادی لیڈر اور کارکن دوربین سے بھی تلاش کرنے پر بھی نہیں مل سکتے، یہ حال ہے شیلار کی بی جے پی کا۔ شیلار کو اس بات کبھی احساس نہیں ہے کہ پانی، زمین، کوئلہ و آسمان کھانے والے بدعنوان لیڈران ان کے زانو سے زانو ملا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
کانگریس کے ریاستی ترجمان نے کہا کہ کانگریس نے ملک کو آزادی دلائی اور تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر ملک کی ترقی کی اور دنیا میں ہندوستان کی شناخت بنائی۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کو 2014 میں آزادی ملی اور ملک نے 2014 کے بعد ہی ترقی کی ہے، انہیں زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں، وہ اس خواب میں ڈوب جائیں۔ لیکن ملک کے عوام نے تبدیلی کے لیے اپنا ذہن بنا لیا ہے۔ اگر اس ملک کے لوگ دنیا کی سب سے طاقتور برطانوی حکومت کو بھی ملک سے بھاگنے پر مجبور کر سکتے ہیں تو بی جے پی کی کیا حیثیت ہے؟ اتل لونڈھے نے یہ بھی کہا کہ اشیش شیلار اور بی جے پی کو یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لینی چاہئے کہ اچھے دن کا خواب دکھا کر انہوں نے جن لوگوں کو بیوقوف بنایا وہی اب بی جے پی کے برے دن لانے والے ہیں۔