سود کی شرح پر غلطی سے کیا گیا فیصلہ واپس تو لیا گیا لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی ’زبردست غطی‘ کب درست کی جائے گی؟: ناناپٹولے

ملک سات سالوں سے مودی کی غلطیوں کی قیمت ادا کررہا ہے

ممبئی: بجت پر سود کی شرح میں کمی کا فیصلہ غلطی سے کیا گیا تھا جسے وزیرخزانہ نرملاسیتارمن نے واپس لینے کا اعلان کیا ہے لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی زبردست غلطی کب درست کی جائے گی؟ یہ سوال آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ مودی سرکار کے اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج ہوا تھا۔اگر یہ غلطی 12گھنٹے کے اندر درست کی گئی ہوتی تو بات دیگر تھی مگر اب جبکہ پانچ ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں تو ایسے وقت میں لیا گیا یہ فیصلہ سوال پیدا کرتا ہے۔پٹولے نے کہا کہ مودی سرکار جب سے اقتدار میں آئی ہے، عوام کی راحت کا اس نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ہر فیصلہ غلط طریقے سے کیا جارہا ہے اور عوام کو پریشانیوں میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی، بغیرمنصوبہ بندی کے لگایا گیا لاک ڈاؤن جیسی غلطیوں کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے پر پہونچ گیا ہے۔ چھوٹی ومیڈیم درجے کی صنعتوں کی حالت ناگفتہ بہ ہوچکی ہے۔ من مانے وویژن سے عاری فیصلوں کی وجہ سے لاکھو ں کروڑوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں۔ کورونا نے اس پر مزید ستم کیا اور دیگر شعبوں کو بھی اپنا وجود برقرار رکھنے کی جدوجہد کرنی پڑرہی ہے۔ ایسی حالت میں مستقبل کے لیے کی گئی بچت بھی مودی سرکار کے عتاب وغلطیوں سے محفوظ نہیں رہ پائی اور اس پر ملنے والے سود میں کٹوتی کرکے مودی سرکار نے عوام کی کمرتوڑ دی۔ اس فیصلے کی ملک بھر میں زبردست مخالفت ہوئی۔ ایسے میں پانچ ریاستوں میں انتخابات بھی جار ی ہیں اور اس فیصلے کے خمیازہ انتخابات میں نہ بھگتان پڑے، اس لیے اسے ’غلطی‘ قرار دے کر اسے درست کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مودی سرکار کے اب تک کے طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد یہ فیصلہ دوبارہ نہیں کیا جائے گا۔

ناناپٹولے نے مزید کہا کہ بچت پر سود میں کٹوتی کا فیصلہ اگر مودی سرکار ’نظر کی چوک‘ قرار دے رہی ہے تو گزشتہ سات سالوں سے پٹرول، ڈیژل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی جو مہابھینکر غلطی کی جارہی ہے وہ کب سدھاری جائے گی؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں یو پی اے حکومت میں بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں آج کے مقابلے میں دوگنی تھیں، مگر یو پی اے حکومت نے ایندھن کی قیمتیں قابو میں رکھ کر عوام کو پریشانی سے محفوظ رکھا۔ لیکن مودی سرکار نے عوام کو راحت دینے میں سراسرناکام رہی۔ سچائی یہ ہے کہ مودی سرکار عوام کے بجائے مٹھی بھر صنعتکاروں کے مفاد کے لیے کام کررہی ہے۔ ایک جانب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب اڈانی نے فارچیون سمیت دیگر کمنیوں نے کھانے کے تیلوں میں اضافہ کرکے عام آدمی کی لوٹ شروع کردی ہے۔ ہمارا مودی سرکار سے یہ سوال ہے کہ اگر بچت پر ملنے والے سود کی شرح میں کٹوتی کا فیصلہ غلطی تھی تو گزشتہ سات سالوں سے ہورہی مہا غلطی کی وہ کب اصلاح کریں گے؟