چھترپتی شیواجی مہاراج کے ہندوی سوراجیہ کی زبان کو مٹانے کی بی جے پی کی سازش، امباجوگائی میں خاتون وکیل پر بہیمانہ تشدد کے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
ممبئی: مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے حکومت کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے جس کے تحت پہلی جماعت سے ہندی زبان کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھی زبان مہاراشٹر کی شناخت اور ثقافت کا ستون ہے اور بی جے پی کی حکومت اسی پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تِلک بھون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ ایک طرف حکومت مراٹھی کو ’کلاسیکی زبان‘ کا درجہ دیتی ہے اور دوسری طرف اسے روزمرہ کے استعمال سے دور کرنا چاہتی ہے، جو اس کی دوغلی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب اور ثقافت کی بنیاد بھی ہے۔ بیک وقت تین زبانوں کو لازمی قرار دینے سے طلباء دیگر مضامین پر توجہ نہیں دے سکیں گے اور بنیادی تعلیم سے محروم رہ جائیں گے۔
سپکال نے کہا کہ علاقائی زبانوں کا احترام کیا جانا چاہیے، اور دوسری زبانوں کا بھی ادب و احترام اپنی جگہ، لیکن بی جے پی کا مقصد صاف ہے کہ وہ علاقائی زبانوں اور ثقافت کو ختم کر کے ’ہندو، ہندی اور ہندو راشٹر‘ کا ایجنڈا نافذ کرنا چاہتی ہے، جس کی کانگریس پارٹی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ اس فیصلے سے دیگر زبانیں پڑھانے والے اساتذہ کی ملازمتیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر جنوبی ہند میں ہندی کے خلاف شدید مخالفت ہوتی ہے تو مہاراشٹرا میں یہ زبردستی کیوں؟ کیا یہ زبان تھوپنے کا عمل ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش نہیں؟ کیا مراٹھی بولنے والے ہندو نہیں؟ سپکال نے الزام لگایا کہ بی جے پی اسی زبان کو مٹانے نکلی ہے جو چھترپتی شیواجی مہاراج کے ہندوی سوراج کی زبان تھی۔
بیڑ ضلع میں سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے بہیمانہ قتل اور علاقے میں سرگرم ’آکا گینگ‘ و ’کھوکے گینگ‘ جیسے مجرمانہ گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ ظلم و ستم کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ امباجوگائی میں ایک نوجوان خاتون وکیل کو، جو سیشن کورٹ میں وکالت کرتی ہیں، محض آواز کی آلودگی کے خلاف شکایت کرنے پر، دیہی سرپنچ اور اس کے کارکنان نے کھیت میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ لاٹھیوں اور لوہے کی پائپوں سے کیے گئے حملے میں وہ بیہوش ہو گئیں، لیکن انہیں ایک ہی رات میں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ سپکال نے اس واقعے کو نہایت ہی ظالمانہ اور قابل مذمت قرار دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ایک خاتون وکیل کو تحفظ حاصل نہیں، تو عام خواتین کا کیا ہوگا؟ سپکال نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر اس میں ذرا سی بھی شرم باقی ہے تو فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔