کرناٹک حکومت کا بڑا فیصلہ، ذاتی تصاویر اورویڈیوز لیک کرنے پر ایف آئی آر درج کرنا لازمی قرار

بنگلورو:کرناٹک حکومت نے ڈیجیٹل پرائیویسی کو مضبوط کرنے اور آن لائن ہراسانی کے متاثرین کے تحفظ کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس تعلق سے حکم جاری کر پولیس کے لیے یہ لازمی قرار دے دیا ہے کہ بغیر اجازت ذاتی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے یا وائرل کرنے کے ہر معاملے میں ایف آئی آر درج کی جائے۔

کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے کہا کہ ’’اگر کسی شخص نے ذاتی تصویر یا ویڈیو بنانے کی رضامندی دی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اسے عام کرنے یا دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کی بھی اجازت مل گئی ہے۔‘‘پریانک کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس کے متعلق معلومات شیئر کیں۔

حکم نامے میں صاف کہا گیا ہے کہ ذاتی مواد کو بغیر اجازت شیئر کرنا یا پھیلانا ایک الگ قابل ادراک جرم تصور کیا جائے گا، خواہ وہ مواد پہلے اس شخص کی مرضی سے ہی کیوں نہ ریکارڈ کیا گیا ہو۔ نئی ہدایات کے مطابق پولیس کو بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)، 2023 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنی ہوگی۔ ان میں بی این ایس کی دفعہ 77 اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعات 66ای، 67 اور 67اے شامل ہیں، جہاں یہ دفعات نافذ ہوتی ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading