یورپ میں اذان پر پابندی؟ یہ ملک بڑے فیصلے کی تیاری میں

کوپن ہیگن: ہمیشہ ہی اسلام مخالف سرگرمیوں میں ملوث یورپ کے ملک Denmark میں حکومت مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر دی جانے والی اذان (اذانِ نماز) پر ملک گیر پابندی عائد کرنے کے قانونی امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ اعلان ملک کے وزیرِ امیگریشن نے کیا، جنہوں نے کہا کہ "لوگوں کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اسلام آباد کے کسی مضافاتی علاقے میں آ گئے ہیں۔”

رپورٹس کے مطابق حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان نشر کرنے پر قانونی طور پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل بھی 2020 اور 2025 میں اسی نوعیت کی تجاویز سامنے آئی تھیں، تاہم ملک گیر پابندی نافذ نہیں ہو سکی تھی۔

ڈنمارک میں بعض علاقوں، خصوصاً دارالحکومت Copenhagen میں، پہلے ہی شور سے متعلق مقامی قوانین کے باعث لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی نشریات محدود ہیں۔ موجودہ تجویز ان پابندیوں کو پورے ملک تک وسعت دینے سے متعلق ہے۔

دوسری جانب مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے حامی حلقوں نے اس تجویز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متعلق حساس معاملہ ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ڈنمارک کے آئین میں مذہبی آزادی کی ضمانت موجود ہے، اس لیے اگر حکومت پابندی نافذ کرتی ہے تو اسے عدالتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فی الحال یہ صرف ایک مجوزہ اقدام ہے، اور اذان پر ملک گیر پابندی ابھی نافذ نہیں ہوئی ہے۔ حکومت قانونی جائزہ مکمل کرنے کے بعد آئندہ فیصلہ کرے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading