ہم ہرروز ہنومان چالیسہ پڑھتے ہیں لیکن اس کا ڈھول نہیں پیٹتے دیوندرفڈنویس بتائیں گے کہ راج ٹھاکرے نے کس کا کنٹریکٹ لیا تھا

ممبئی: مرکز کی بی جے پی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ مودی حکومت ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس ناکامی کو چھپانے کے لیے مرکزی حکومت اب ہندووں ومسلمانوں میں دراڑ پیداکرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مودی حکومت پر یہ حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت مہاراشٹر میں مذہبی اختلافات پیدا کرنے والے تمام لیڈروں اور ان کے پروگراموں پر پابندی عائد کرے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بے تحاشا مہنگائی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی تنازعہ کھڑا کر کے سماجی ہم آہنگی، امن اور بھائی چارے کو تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا آئین ہر کسی کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے اور اس کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی دیتا ہے۔میں ایک ہندو ہوں اور ہر روز ہنومان چالیسہ پڑھتا ہوں لیکن میں اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتا۔ ہمیں اپنی پوجاپاٹھ یاعبادت کرنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ تمام مذاہب برابر ہیں اور سب کو ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرنا چاہیے۔ دوسروں کے مذہب پر تنقید کرنے والے دراصل آئین کو نہیں مانتے۔

پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کا ایجنڈا مذہبی منافرت پھیلانا اور لوگوں کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹانا ہے لیکن لوگ ان کے ایجنڈے کا شکار نہیں ہوں گے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی پورے ملک میں ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ عوام بی جے پی کی اس سازش کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ جب صحافیوں نے ایم این ایس کے صدر راج ٹھاکرے کے بارے میں پوچھا تو نانا پٹولے نے کہا کہ حزب اختلاف لیڈر دیویندر فڈنویس نے پہلے ایم این ایس صدر راج ٹھاکرے کو سپاری باز کہا تھا۔ اب دیویندر فڈنویس ہی بتا سکتے ہیں کہ راج ٹھاکرے نے کس کی سپاری لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی، اتراکھنڈ، اتر پردیش میں قانون ہاتھ میں لے کر فسادات ہو رہے ہیں۔ وہاں سب نے دیکھا ہے کہ اس کے پیچھے کون لوگ تھے۔ مہاراشٹر میں بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مہاراشٹر کی حکومت نے ان کے ارادوں کو ناکام بنا دیا۔ پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت کو تمام مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کو بلانا چاہئے اور مناسب فیصلہ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کو بدنام کرنے والے مذہب کے ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔