MPCC Urdu News 17 June 25

کیا اب بی جے پی انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو بھی پارٹی میں شامل کرے گی؟: ہرش وردھن سپکال

ممبئی: 17 جون 2025

بی جے پی جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی قرار دیتی ہے، اب طاقت کا مظاہرہ کرنے کے جنون میں اس حد تک جا پہنچی ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو پارٹی میں شامل کرنے سے گریز نہیں کر رہی۔ یہ الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی پر لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد پر خود بی جے پی نے ماضی میں بدعنوانی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے سنگین الزامات عائد کیے تھے، انہی افراد کو بعد میں عزت و احترام کے ساتھ پارٹی میں شامل کیا گیا اور بعض کو تو وزارتیں بھی دے دی گئیں۔

سپکال نے کہا ہے کہ بی جے پی اب تمام حدیں پار کر چکی ہے۔ حال ہی میں جس شخص پر انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے تعلقات کا الزام تھا، اُسی کو باوقار طریقے سے پارٹی میں شامل کر لیا گیا۔ انہوں نے سخت سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی معیار ہے، تو کیا اب بی جے پی داؤد ابراہیم کو بھی ہندوتوا کے نام پر پارٹی میں شامل کر لے گی؟ سپکال نے کہا کہ اگرچہ کسی کو پارٹی میں شامل کرنا کسی بھی سیاسی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے، لیکن جب بی جے پی خود کو ہندوتوا کی علمبردار کہتی ہے، تو اُسے اپنے افعال پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی جے پی کے ہی رکن اسمبلی نتیش رانے نے مہاراشٹر اسمبلی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ ناسک کے سدھاکر بڑگوجر نے داؤد کے کارندے ’سلیم کتا‘ کے اعزاز میں ایک پارٹی رکھی تھی، جس میں رقص و موسیقی کی محفل بھی منعقد ہوئی تھی۔ نتیش رانے نے اسمبلی میں وہ تصاویر بھی پیش کی تھیں اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

بی جے پی کہنا ہے کہ چونکہ سدھاکر بڑگوجر نے ہندوتوا کو اپنا لیا ہے، اس لیے ان کا پارٹی میں خیرمقدم کیا گیا ہے۔ اس صورتحال پر طنز کرتے ہوئے سپکال نے سوال کیا کہ اگر صرف ہندوتوا قبول کرنا ہی معیار ہے، تو کل اگر داؤد ابراہیم بھی ہندوتوا اپنا لے، تو کیا بی جے پی اُسے بھی پارٹی میں شامل کر لے گی؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ بی جے پی خود کو ’پارٹی ود ڈفرنس‘ کہتی ہے، لیکن اب یہ پارٹی جرائم پیشہ افراد، غنڈوں اور بدعنوان عناصر سے بھر چکی ہے۔ سپکال نے مزید کہا کہ ممبئی میں 1993 کے بم دھماکوں کے ملزم اور داؤد کے قریبی ساتھی اقبال مرچی کے ساتھ جائیداد کے لین دین میں جن افراد کے نام سامنے آئے، ان میں این سی پی کے سابق وزیر پرفل پٹیل بھی شامل تھے۔ لیکن آج بی جے پی انہی کی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت میں ہے اور بی جے پی نے پرفل پٹیل کو اپنی مشہور ’واشنگ مشین‘ میں ڈال کر پاک صاف کر لیا ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی کے ہندوتوا کے دعووں کو محض دکھاوا قرار دیا اور کہا کہ ہم شروع سے یہ کہتے آئے ہیں کہ بی جے پی کا ہندوتوا صرف ووٹ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور آج کے واقعات نے ایک بار پھر ہماری بات کو ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بی جے پی کے صوبائی صدر اور کارگزار صدر کو بھی دوپہر تک یہ علم نہیں تھا کہ سدھاکر بڑگوجر کو پارٹی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ اہم سوال اٹھتا ہے کہ آخر بی جے پی کو اصل میں چلا کون رہا ہے؟ کیا یہ پارٹی اب مقامی قیادت کے کنٹرول میں نہیں رہی؟

MPCC Urdu News 17 June 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading