مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج میں کانگریس پارٹی چھوٹے کاروباریوں ودوکانداروں کے ساتھ
ممبئی:مرکزی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے پورے ملک میں مہنگائی بھڑک اٹھی ہے۔ جب سے پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے مہنگائی آسمان کو چھونے لگی ہے۔ایسے میں مرکز کی مودی حکومت نے ضروری اشیاء پر 5 فیصد جی ایس ٹی لگا کرعام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنادیا ہے۔مرکزی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف ریاست کے تاجر اور دکاندار سڑکوں پراترکر احتجاج کررہے ہیں۔ان کے اس احتجاج میں کانگریس پارٹی ان کے ساتھ ہے اور جی ایس ٹی کے خلاف تاجروں کے احتجاج کو ہماری مکمل حمایت ہے۔ یہ اعلان آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔
اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے مزید کہا کہ 8 سال قبل 100 دنوں میں مہنگائی کم کرنے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی مودی حکومت کے اس ۸سالہ دور میں مہنگائی کم ہونے کے بجائے بلٹ ٹرین کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔جو گیس سیلنڈر450 روپے کا تھا وہ آج ایک ہزار 50روپئے تک مہنگا ہوگیا ہے۔ یوپی اے حکومت کے دور میں پٹرول 65 روپے فی لیٹر تھا جو آج 110 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی دگنی ہو گئی ہیں۔ ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کا خواب بھی خواب ہی رہ گیا۔ ملک میں بیروزگاری گزشتہ 45 سالوں میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 1.25 کروڑ خواتین اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں جبکہ تقریبا4 کروڑ مرد بھی اپنی نوکریاں گنوا بیٹھے ہیں۔
پٹولے نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعے جی ایس ٹی کے غلط اور من مانی نفاذ سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے چھوٹے تاجراور دکاندار بھی تباہ ہوگئے ہیں۔ ملک کی تاریخ میں کبھی بھی زرعی مشینری اور کھادوں پر ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن اب تو ہسپتال کے بستروں پر 5 فیصد جی ایس ٹی، ہوٹل کے کمروں پر 12 فیصد جب کہ پنیر، دودھ، دہی، لسی، چھاچھ، آٹا چاول، گندم و جوار پر بھی5 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جائے گا۔پٹولے نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کا جینا دوبھر ہورہا تھا اب ضروری اشیاء پر جی ایس ٹی لگا نے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غریب لوگ کھائیں گے کیا؟ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو بھی جی ایس ٹی کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت نے غلط اور من مانے طریقے سے جو جی ایس ٹی لگایا ہے اسے وہ فوراً واپس لے۔