شکست کے خوف سے بی جے پی دوسری پارٹیوں کے لیڈروںکو آفر دینے لگی ہے : نانا پٹولے
بی جے پی کے پاس اپنا کوئی امیدوار نہیں ہے، اس کے زیادہ تر لیڈر دوسری پارٹیوں کے ہیں، باونکولے بھی یوتھ کانگریس سے ہیں
کیا ملند دیورا کو 50 سالوں میں منفی نظر نہیں آیا؟وہ اپنے فائدے کے لیے شندے سینامیں شامل ہوئے
ممبئی:بی جے پی کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسےاس بات کا خوف لاحق ہوگیا ہے کہ آنے والے انتخابات میں وہ ریاست اور مرکز کے اقتدار سے باہر ہو جائے گی۔ گزشتہ 10 سالوں میں بی جے پی نے صرف نعروں، اشتہارات اور جھوٹ کے ذریعے حکومت چلائی ہے۔ عوام نے اب دیکھ لیا ہے کہ بی جے پی کے کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور ہیں۔ چونکہ بی جے پی کو اپنے داخلی سروے سے اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات میں مہاراشٹر میں مہاوکاس اگھاڑی کو 40 سے زائد سیٹیں مل سکتی ہے اس لیے وہ اب اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو لبھانے اور ان پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کرنے لگی ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔
نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کے سروے میں جو رجحانات آرہے ہیں اس سے ان کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ہے۔ انہیں اپنی شکست نظر آنے لگی ہے۔ بی جے پی کا کوئی نظریہ اور کوئی وچاردھارا نہیں ہے ۔ اس کا مقصد کسی بھی طریقے سے صرف اور صرف اقتدار حاصل کرنا اور عوام کی محنت کی کمائی کو لوٹنا ہے۔پٹولے نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بی جے پی ملک بیچ کر ملک چلارہی ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سشیل کمار شندے نے کھلے عام کہا ہے کہ انہیں بی جے پی نے پیشکش کی تھی اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ کانگریس نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کو اقتدار کی کتنی لالچ ہے ۔ بی جے پی کے پاس نہ تو کوئی لیڈر ہے اور نہ ہی کوئی امیدوار۔ ان کی پارٹی میں کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے کئی لیڈر ہیں۔ بی جے پی کے موجودہ ریاستی صدر چندر شیکھر باونکولے بھی پہلے یوتھ کانگریس میں تھے۔
سابق ایم پی ملند دیورا کے بارے میں پوچھے جانے پر نانا پٹولے نے کہا کہ دیورا خاندان 50 سال سے زیادہ عرصے سے کانگریس میں تھا۔ پارٹی نے انہیں ایم پی اور وزیر بنایا۔ لیکن تب دیورا کو کانگریس میں کوئی منفی چیز نظر نہیں آئی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ دیورا صرف اپنے فائدے کے لیے شندے سینا میں شامل ہوئے ہیں۔
ممبئی کے گلیمر کو بھی گجرات نے چرا لیا
اس بار گجرات میں ہونے والی فلم فیئر ایوارڈز کی تقریب کے بارے میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ نریندر مودی جب بھی مہاراشٹر آئے، وہ مہاراشٹر سے کچھ نہ کچھ لے کر گجرات گئے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ وہ گجرات کے وزیر اعظم ہیں یا پورے ملک کے؟ اس سے پہلے ویدانتا-فاکسکان ، ٹاٹا ایئربس، بین الاقوامی مالیاتی مرکز، ہیروں کی صنعت کو بھی ممبئی سے گجرات منتقل کیا جا چکا ہے۔ اب ممبئی کے گلیمر کو بھی گجرات لے جایا گیا ہے۔ یہ مہاراشٹر کی بدقسمتی ہے کہ ہماری ریاست کو لوٹا جا رہا ہے لیکن وزیر اعلیٰ اور ان کے ساتھی لیڈر خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں۔