Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

MPCC Urdu News 16 Sep 2020

پیازبرآمدپرپابندی ختم ہونے تک کانگریس کا احتجاج جاری رہے گا: بالاصاحب تھورات

ریاست بھر میں کانگریس کے احتجاج کو عوام کا زبردست تعاون

ممبئی: کورونا بحران سے ہونے والے نقصانات سے کسان تھوڑا ابھررہے تھے کہ مرکز کی مودی حکومت نے کسانوں کی امیدوں پرپانی پھیردیا۔ بازار میں پیاز کی ٹھیک ٹھاک قیمت مل رہی تھی کہ اچانک پیازبرآمد کرنے پر پابندی عائد کرکے مودی حکومت نے کسانوں کوزبردست نقصان پہونچایا ہے۔ مودی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کسانوں میں زبردست غصہ پیدا ہوگیا ہے، لیکن ریاستی حکومت نہایت مضبوطی سے کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ مرکزی حکومت جب تک پیاز کی برآمدات پر عائد پابندی ختم نہیں کرتی ہے، اس وقت تک کانگریس کی ریاست گیر تحریک جاری رہے گی۔ یہ اعلان آج یہاں کانگریس کے ریاستی صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کیا ہے۔ واضح رہے کہ مودی حکومت کے مذکورہ فیصلے کے خلاف کانگریس نے آج ریاست گیر احتجاج کیا ہے۔ اس احتجاج میں کسانوں کے علاوہ کانگریس کے کارکنان وعہدیداران نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

ناسک میں ہوئے احتجاج میں لوگوں نے مودی کے گلے میں پیاز کی مالا پہنا کر مرکزی حکومت کی کسان مخالف پالیسی کے خلاف احتجاج کیا جبکہ پونے، دھولیہ ضلع کے ساکری، کولہاپور، رتناگیری، تھانے، پربھنی، اورنگ آباد، شولاپور سمیت ریاست کے تمام اضلاع کے صدردفاتر کے سامنے نیز تعلقہ جات سطح پر احتجاج کیا گیا۔ سنگم نیر تعلقہ میں کانگریس کمیٹی نے احتجاج کرتے ہوئے سب ڈویژنل آفیسر ششی کانت منگرولے کو میمورنڈم دیا۔ کانگریسی کارکنان نے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر بالاصاحب تھورات نے کہا کہ کسان ہمیشہ کبھی سیلاب تو کبھی ژالہ باری سے جھوجھتے رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ریاستی حکومت مختلف طریقوں سے کسانوں کی مدد کرتی رہتی ہے، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے کبھی اس طرح کی مدد نہیں کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل دودھ کے پاوڈر درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں ٹن دودھ کا پاوڈر جوں کا توں رہ گیا او رجس کے نتیجے میں دودھ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ اسی طرح اب پیاز کی قیمتیں تھوڑی زیادہ ملنے لگی تھیں کہ برآمدات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کردیاگیا جس کے نتیجے میں پیاز کی قیمت سات سو سے آٹھ سوروپئے فی کوئنٹل تک کم ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے کسانوں بدترین حالات کے شکار ہورہے ہیں۔