بی جے پی ریزرویشن نہیں دے سکتی، کانگریس اقتدار میں آئی تو ریزرویشن کا مسئلہ حل کرے گی: نانا پٹولے
حکومت خشک سالی کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے، کابینہ میں اس پر بحث بھی نہیں ہورہی ہے
سابق آئی پی ایس افسر میرا بورونکر کی کتاب میں ’دادا‘ کون ہے؟
ممبئی: اس وقت ریاست میں مراٹھا، او بی سی، دھنگر برادریاں ریزرویشن کا مطالبہ کر رہی ہیں اور ان کا مطالبہ درست بھی ہے۔ 2014 سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان برادریوں کو ریزرویشن دینے کے نام پر خوب بہلایا۔ مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود کسی بھی برادری کو ریزرویشن تونہیں بلکہ دھوکہ دیا گیا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ اگر ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنا ہے تو ذات کی بنیادا پر مردم شماری نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد ذات کی بنیاد پر مردم شماری کرائی جائے گی اور ریزرویشن کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔
تلک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست میں پچھلے کچھ دنوں سے ریزرویشن کا مسئلہ گرم ہے۔ بی جے پی ریزرویشن کو لے کر دو برادریوں کے درمیان تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس ناگپور میں کہتے ہیں کہ وہ او بی سی کے ریزرویشن کو ہاتھ نہیں لگائیں گے اور دوسری طرف وہی فڑنویس کہتے ہیں کہ صرف بی جے پی ہی مراٹھوں کو ریزرویشن دے سکتی ہے۔ دراصل نائب وزیر اعلیٰ دونوں برادریوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اگر ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنا ہے تو مرکزی حکومت اسے فوراً کر سکتی ہے۔ ذات کے لحاظ سے مردم شماری اس سمت میں ایک اہم قدم ہوگا لیکن بی جے پی اس کے خلاف ہے۔ کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمارے سرکردہ لیڈروں نے بھی کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد ذات کے لحاظ سے مردم شماری کرانے کا وعدہ کیا ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست کے کئی حصوں میں کم بارش ہوئی ہے۔ مراٹھواڑہ میں صورتحال سنگین ہے۔ ہم نے 7 اکتوبر سے مہاراشٹر کا دورہ کیا اور وہاں کے حالات دیکھے اور مقامی لوگوں سے بات کی۔لوگوں کو پینے کے پانی، جانوروں کے چارے سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے۔ کسان، مزدور اور عام لوگ پریشان ہیں۔ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس علاقے کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا جائے لیکن حکومت اس معاملے میں ذرا بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ کابینہ کے دو تین اجلاس ہوئے لیکن خشک سالی پر کوئی بات تک نہیں ہوئی۔ اس ای ڈی اے حکومت کا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک وزیر صاحب مبارکباد دینے میں مصروف ہے تو دوسرے وزیر صاحب شیواجی مہاراج کے شیر کا ناخون لانے کی بات کرکے عوام کے پیسے سے لندن کے سیر کا مزہ لے رہے ہیں۔
نانا پٹولے نے کہا کہ سابق آئی پی ایس افسر میرا بورونکر نے اپنی کتاب میں یروڈا اراضی گھوٹالہ کا مسئلہ اٹھایا اور ذکر کیا ہے کہ اس وقت کے سرپرست وزیر’دادا‘ نے اس کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ بورونکر کی کتاب میں مذکورہ وزیر ’دادا‘ کون ہیں؟ لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے۔ پولس انتظامیہ میں اس حکومت کو لے کر کافی ناراضگی ہے۔ بی جے پی کے کچھ لوگوں نے فون ٹیپنگ معاملے میں داغدار شبیہ کی حامل افسر کو ڈائریکٹر جنرل آف پولیس بنانے کی تیاری کر لی ہے۔ ریاست میں یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ پٹولے نے سوال کیا کہ اگر کوئی افسر گھوٹالے کے بارے میں بیان دیتا ہے تو آپ اس کے خلاف احتجاج کی دھمکی کیسے دے سکتے ہیں؟ جب کچھ کیا نہیں ہے تو پھر ڈر کس بات کا؟
لوگ نہ گھر میں محفوظ ہیں نہ باہر
نانا پٹولے نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ویجاپور میں سمردھی ہائی وے پر ایک حادثے میں 12 لوگوں کی موت ہو گئی۔ گزشتہ 9 ماہ میں سمردھی ہائی وے پر 860 حادثات ہوئے اور 1000 افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو حکومت تحقیقات کا اعلان کرتی ہے۔ آخر اب کتنی تفتیش ہوگی اور پہلے سے اعلان شدہ تحقیقات کا کیا ہوا؟ حکومت کو پہلے اس کا جواب دینا چاہیے۔ پٹولے نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اس شاہراہ نے کس کو ’سمردھ‘ کیا ہے۔ نانا پٹولے نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی شندے حکومت کے دوران لوگ گھر میں بھی محفوظ نہیں ہیں اور اگر وہ سڑکوں پر نکلیں تو سڑکیں بھی ان کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔
میرا بورونکر کے الزامات کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے تحقیقات کروائی جائے: نانا پٹولے
جانچ پوری ہونے تک نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کوان کے عہدے نہ رکھا جائے
ممبئی:سابق آئی پی ایس افسر میرا بورونکر کی طرف سے یروڈا پونے میں سرکاری زمین کے حوالے سے لگائے گئے الزامات بہت سنگین ہیں۔ بورونکر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس وقت کے سرپرست وزیر اجیت پوار نے ان پر یہ سرکاری زمین ایک پرائیویٹ بلڈر کو دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ میرا بورونکر کی طرف سے لگائے گئے ان سنگین الزامات کی جانچ ہائی کورٹ کے موجودہ جج پرتھوی راج چوہان سے کرائی جائے اور تحقیقات ہونے تک نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا جائے۔
اس سلسلے میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ میرا بورونکر کا الزام ہے کہ اس وقت کے سرپرست وزیر نے یرواڈا پولیس ڈیپارٹمنٹ کی زمین بلڈر کو دینے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسمبلی اجلاس میں حکومت سے جواب طلب کریں گے۔ اگر ہم تحقیقات کا مطالبہ بھی کریں تو یہ حکومت اس کی تحقیقات کیسے کرے گی؟ اس معاملے میں دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ بورونکر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کس طرح اجیت پوار نے ان پر اپنے قریبی بلڈر شاہد بلوا کو سرکاری زمین دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ آج میرا بورونکر نے ایک پریس کانفرنس میں سنگین الزامات لگائے ہیں۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت میں تھوڑی سی بھی اخلاقیات باقی بچی ہے تو وہ اس معاملے کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے جانچ کرائیں، تب ہی ساری حقیقت سامنے آئے گی۔