ریاست میں بی جے پی حکومت ’گینگز آف واسے پور‘ جیسے ٹولیوں کی حکومت: ہرش وردھن سپکال
کسانوں کی پیداوار کو مناسب دام نہیں، قرض معافی نہیں، 10 لاکھ بہنیں اسکیم کے فائدے سے محروم
اتحاد کی سیاست کے سبب کوکن میں کانگریس کو محدود رہنا پڑا، مگر اب کوکن میں پارٹی کو مضبوط کرنے پر توجہ
رتناگیری: ریاست میں بی جے پی کی حکومت نے وعدے کرنے کے باوجود کسانوں کی پیداوار کو مناسب قیمت نہیں دی، کسانوں کو قرض معافی نہیں دی۔ ’لاڈکی بہین‘ اسکیم کے نام پر حکومت میں آئی مگر اقتدار میں آنے کے بعد 10 لاکھ بہنوں کو فائدے سے محروم کر دیا۔ عوام سے کیے گئے وعدے وفا نہ کرنا حکومت کی ناکامی ہے۔ بی جے پی حکومت اقتدار کے نشے میں ہے، وزیروں کے درمیان اختلافات ہیں، اقتدار کے حریص لوگ حکومت میں بیٹھے ہیں۔ یہ حکومت درحقیقت ’گینگز آف واسے پور‘ جیسی ٹولیوں کی حکومت ہے اور اس کی قیمت عام عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔ یہ سخت حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا۔
رتناگیری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ بیڑ ضلع میں ایک سرپنچ کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، اس قتل کے پیچھے کون تھا؟عوام نے خود دیکھا۔ ایک وزیر جعلی دستاویزات جمع کرانے کے الزام میں قصوروار پایا گیا ہے، جبکہ سندھودرگ کے وزیر روزانہ متنازعہ بیانات دے کر ریاست میں کشیدگی پھیلا رہے ہیں۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کے متعلق غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رتناگیری اور سندھودرگ میں بھی قانون و انتظامیہ کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔ کوکن اور ممبئی کا قریبی تعلق ہے، مگر بی جے پی کوکن کے روایتی تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہاں بڑی مقدار میں معدنیات پائی جاتی ہیں، جنہیں صنعت کاروں کو سونپنے کی تیاری ہے۔ کوکن کے عوام اس میں رکاوٹ نہ بنیں، اس لیے مذہبی اور سماجی اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت صرف صنعت کاروں کے مفاد کے لیے کوکن کو تباہ کر دینا چاہتی ہے۔ یہاں بنائے جا رہے ’شکتی پیٹھ‘ بھی دراصل صنعت کاروں کے فائدے کے لیے ہی ہیں۔
شیواجی مہاراج تنازعے پر کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بی جے پی کی سیاسی گود میں پلنے والوں نے شیواجی مہاراج کی راجیہ ابھیشیک تقریب کی مخالفت کی تھی۔ سنت تُکارام، سنت گیانیشور اور ساوتری بائی پھلے کو ستانے والی یہی سوچ تھی۔ مہاراج کی وفات کے بعد 200 سال تک ان کی سمادھی کو چھپایا گیا۔ جوتی راؤ پھلے نے مہاراج کی سمادھی کو تلاش کیا۔ بی جے پی دراصل اسی سوچ کو فروغ دے رہی ہے جو شیواجی مہاراج کے کارناموں کو مٹانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی دراصل آئین کو نہیں مانتی، بلکہ آر ایس ایس کے ’بَنچ آف تھاٹس‘ کو تسلیم کرتی ہے۔ اس کتاب میں چھترپتی سنبھاجی مہاراج کے بارے میں جو لکھا گیا ہے وہ شیوندرا راجے بھوسلے کو پڑھنا چاہیے۔ ساورکر نے سنبھاجی مہاراج کے بارے میں کیا لکھا وہ بھی پڑھنا چاہیے۔ بی جے پی کے لوگ شیواجی اور سنبھاجی مہاراج کی مسلسل توہین کر رہے ہیں اور ان کی بے حرمتی کرنے والوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ سولاپورکر اور کورٹکر نے شیواجی مہاراج کی توہین کی، مگر انہیں بی جے پی کی حمایت حاصل ہے۔ ایسے میں شیوندرا راجے بھوسلے کو اس حکومت میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، انہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کوکن میں سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے اور امن و سکون کو تباہ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ کوکن میں بڑی مقدار میں معدنیات دریافت ہوئی ہیں، جنہیں بی جے پی کی اتحادی حکومت صنعت کاروں کو دینا چاہتی ہے۔ مگر یہاں کے عوام خوددار ہیں اور اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت مذہبی منافرت پیدا کر کے اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوکن میں کانگریس کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں مقامی عوام سے مشاورت کر کے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ اب رونے کا نہیں بلکہ لڑنے کا وقت ہے۔ کانگریس کو مضبوط کرنے کے لیے کام کریں، پارٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر ایم ایل اے بھائی جگتاپ، سابق ایم پی حسین دلوائی، سابق ایم ایل اے حُسنہ بانو خلیفے، رمیس کیر، کانگریس کے نائب صدر گنیش پاٹل اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔