ایکناتھ شندے محض نام کے وزیراعلیٰ ؛ مودی وشاہ کے اشارے پر ہی مہاراشٹر کی حکومت چل رہی ہے: کانگریس

418
  • دولاکھ کروڑ روپئے کا فاکسکان کا گجرات جانامہاراشٹر کے ساتھ ناانصافی ہے
  • اگر شندے وفڈنویس کل ممبئی کوبھی گجرات کے حوالے کر دیں تو حیرانی نہیں ہو گی

ممبئی:ویدانتا -فاکس کان کا مہاراشٹر میں مجوزہ ۲لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کا گجرات چلے جانا نہایت سنگین معاملہ ہے۔اس سے واضح ہوگیا ہے ایکناتھ شندے محض نام کے ہی وزیراعلیٰ جب کہ مہاراشٹرحکومت کا کام کاج پی ایم نریندر مودی اور مرکزی وزیر امیت شاہ کے اشارے پر دہلی سے چلایا جا رہا ہے۔ریاست کی شندے حکومت پر یہ شدید تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاکس کان کا گجرات جانا مہاراشٹر کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے ریاست میں سرمایہ کاری لانے کی کوشش میں فاکسکان کے ساتھ مثبت بات چیت کی تھی۔ مہاراشٹر حکومت اور ویدانتا فاکسکان کے درمیان بات چیت آخری مرحلے میں پہنچ گئی تھی۔

پونے کے قریب تلیگاؤں کا محل وقوع گجرات سے زیادہ منافع بخش تھا۔ مہاراشٹر حکومت نے اس پروجیکٹ کے لیے ان کمپنیوں کو اچھا پیکیج بھی دیا تھا، لیکن جیسے ہی ریاست میں حکومت تبدیل ہوئی اس پروجیکٹ کو گجرات منتقل کر دیا گیا۔

یہ انتہائی چونکا دینے والا فیصلہ ہے۔پٹولے نے کہا کہ اگر یہ پروجیکٹ تلیگاؤں میں شروع کیا جاتا تو مہاراشٹر کے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو بھی کافی فائدہ ہوتا۔ لیکن بی جے پی لیڈر اس کے لیے مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، جب کہ شندے وفڈنویس کی ای ڈی حکومت اس وقت تک

سوتی رہی جب تک کہ مہاراشٹر کا یہ بڑا پروجیکٹ گجرات نہیں چلاگیا۔ پٹولے نے کہا کہ 2014-19 میں دیویندر فڈنویس کے دور میں مجوزہ بین الاقوامی مالیاتی مرکز، ڈاکیارڈ، اور ممبئی میں ہیروں کی تجارت گجرات منتقل ہو گئی تھی اور اب Foxconn بھی گجرات منتقل ہو گئی ہے۔ پٹولے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی سازش کو دیکھتے ہوئے اگر ایکناتھ شندے اور دیویندر فڈنویس کل ممبئی کو بھی گجرات کو دے دیں تو کوئی تعجب نہیں ہونی چاہئے۔