اجیت پوار کی ’لاڈکی بہن‘ اسکیم سے مہایوتی کو 238 سیٹیں ملیں، اپوزیشن کی تنقید پر سنیل ٹٹکرے کا جواب
اپوزیشن ووٹر لسٹ پر مہاراشٹر کو نشانہ بنا رہا ہے: سنیل ٹٹکرے
اسمبلی انتخابات کے اعداد و شمار میں الجھے بغیر ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں: سنیترہ پوار
ممبئی: اپوزیشن پارٹیاں مسلسل یہ الزام لگا رہی ہیں کہ ’لاڈکی بہن‘ اسکیم محض دکھاوا ہے اور خواتین کے وقار کی قیمت محض 1500 روپے میں بیچ دی گئی ہے۔ اس پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے آج نیشنلسٹ ویمن کانگریس کے جائزہ اجلاس میں سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ چاندی کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے لوگ اس اسکیم کی اہمیت کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف اور صرف اجیت پوار کی جانب سے ’لاڈکی بہن‘ اسکیم نافذ کرنے کی بدولت ہی مہایوتی اتحاد کو 238 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ یہ اجلاس ممبئی کے ویمن ڈویلپمنٹ منڈل آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں مہاراشٹر بھر کی سینئر خواتین عہدیداران آئندہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے حوالے سے تبادلۂ خیال کے لیے موجود تھیں۔
سنیل تٹکرے نے کہا کہ سماج کے ہر طبقے کی خواتین کو ’لاڈکی بہن‘ اسکیم کا فائدہ ملا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جہاں جہاں این سی پی کا امیدوار ہوگا وہاں اجیت پوار کی قیادت مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ ووٹر رجسٹریشن کے عمل پر بات کرتے ہوئے تٹکرے نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ مہاراشٹر کو نشانہ بنا رہے ہیں، حالانکہ الیکشن کمیشن کی طرف سے مقررہ وقت میں ووٹر لسٹ سے متعلق اعتراضات درج کرائے جانے چاہیے تھے۔ تٹکرے نے مزید کہا کہ مقامی خودمختار اداروں میں 50 فیصد سیٹیں خواتین کے لیے مختص ہیں اور اس سطح پر این سی پی کو زیادہ سے زیادہ سیٹیں ملنے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی انتخابات میں جو اقلیتی طبقہ دور ہوگیا تھا وہ اب این سی پی کے سیکولر موقف اور شیواجی، شاہو، پھولے، امبیڈکر کی فکر سے وابستگی کے باعث دوبارہ پارٹی سے جڑ رہا ہے۔
تٹکرے نے پارٹی کارکنان سے اپیل کی کہ آئندہ انتخابات کو سنجیدگی سے لیں اور یقین دلایا کہ مہایوتی اتحاد متحد ہو کر انتخاب لڑے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے ہر ضلع کی منصوبہ بندی کمیٹی میں کم از کم ایک خاتون کی تقرری پر بھی زور دیا۔ تٹکرے نے خواتین عہدیداران کو پارٹی ڈسپلن میں رہتے ہوئے کام کرنے، سیاسی مکالمے کا معیار بلند رکھنے اور تنظیم کی عزت و وقار برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ خواتین کارکنان کو حوصلہ دیتے ہوئے تٹکرے نے کہا کہ اگر ہم یہ انتخابات مضبوطی سے لڑیں گے تو آنے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں ہم اور مضبوط پوزیشن میں ہوں گے۔ ریاست کی خواتین کے لیے نیشنلسٹ ویمن کانگریس کے مؤثر کام پر مجھے فخر ہے۔
این سی پی کی راجیہ سبھا رکن سنیترہ پوار نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ پچھلے اسمبلی انتخابات کے اعداد و شمار میں الجھنے کے بجائے آگے آنے والے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے 26 برس مکمل کر لیے ہیں لیکن مزید بلندیوں پر پہنچنے کے لیے فعال شمولیت ضروری ہے۔ پوار نے خواتین سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے حکومت کے کام کی اطلاع عوام تک پہنچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی خودمختار ادارے سیاسی سفر کا پہلا زینہ ہوتے ہیں جو مستقبل کی قیادت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ انہیں جو ذمہ داری دی گئی ہے اس کے تحت وہ پارلیمنٹ میں خواتین کے مسائل اٹھا رہی ہیں اور آئندہ بھی اٹھاتی رہیں گی۔ انہوں نے خواتین سے کہا کہ خواتین کی حفاظت، تعلیم اور فلاح سے جڑی سرگرمیوں کے ذریعے این سی پی کی خواتین ونگ کو ہر گھر تک پہنچائیں۔
اس اجلاس میں خواتین و اطفال ترقی کی وزیر آدتی تٹکرے نے اپنے محکمے کے تحت خواتین کے لیے جاری مختلف اسکیموں کی تفصیل پیش کی، جبکہ نیشنلسٹ ویمن کانگریس کی ریاستی صدر روپالی چاکنکر نے تنظیم کے پھیلاؤ اور مضبوطی پر روشنی ڈالی۔ سینئر لیڈرز سریکھا ٹھاکرے، راج لکشمی بھوسلے اور دیگر عہدیداران نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ریاستی خواتین صدر روپالی چاکنکر، چیف ترجمان آنند پرانجپے، نائب صدر پرمود ہندو راؤ، سینئر لیڈر سریکھا ٹھاکرے، پونے کی سابق میئر و ریاستی جنرل سکریٹری راج لکشمی بھوسلے، نائب صدر مایا تائی کٹاریا، ریاستی جنرل سکریٹری لطیف تمبولی، ممبئی صدر آرتی سالوی، کارگزار صدر منیشا تُپے، ریاست کے تمام ضلعی صدور، شہر صدور، کارگزار صدور، انسپکٹر اور ریاستی عہدیداران موجود تھے۔
نواب ملک ایکشن موڈ میں، انتظامی کمیٹی کی میٹنگ سے انتخابی مہم کا آغاز
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی طرف سے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے آئندہ انتخابات کے لیے انتظامی کمیٹی کی صدارت کی ذمہ داری جب سینئر لیڈر اور سابق وزیر نواب ملک کو سونپی گئی، تو انہوں نے بغیر وقت ضائع کیے فوری طور پر عملی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ اس ضمن میں انتظامی کمیٹی کی پہلی میٹنگ آج شام باندرہ کے ایم آئی جی کلب میں منعقد ہوئی، جہاں پارٹی کے اعلیٰ عہدیداران اور ممبئی کے مختلف اضلاع کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے جامع حکمت عملی، تنظیمی ڈھانچے کی مضبوطی اور عوامی رابطہ مہم کی منصوبہ بندی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار اور صوبائی صدر و رکن پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے ممبئی کی انتخابی ذمہ داری نواب ملک کے سپرد کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد نواب ملک نے واضح کیا کہ ممبئی میں پارٹی کو مضبوط کرنا اور بلدیاتی سطح پر کامیابی حاصل کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں گلی، محلوں اور وارڈ سطح پر تنظیم کو متحرک کیا جائے گا اور عوامی مسائل کو براہِ راست سنا اور حل کیا جائے گا تاکہ پارٹی کے تئیں عوام کا اعتماد مزید بڑھایا جا سکے۔ اس پہلی میٹنگ میں نواب ملک کی قیادت میں ممبئی کے کارگزار صدر سدھارتھ کامبلے، شیو اجی راؤ نلاوڈے، رکن اسمبلی ثنا ملک شیخ، سابق رکن اسمبلی ذیشان صدیقی، صوبائی جنرل سیکریٹری سنتوش دھووالی، صوبائی نائب صدر بھاسکر وچارے، صوبائی ترجمان سنجے تٹکرے شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ مدعو اراکین میں جنوبی ممبئی کے ضلعی صدر مہندر پانسرے، شمال مغربی ضلعی صدر اجے وچارے، شمالی ممبئی کے ضلعی صدر اندرپال سنگھ، شمال مشرقی ممبئی کے ضلعی صدر سریش بھالیراؤ اور ممبئی کے جنرل سیکریٹری راجو گھوگے سمیت کئی دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ میٹنگ میں تمام اضلاع کے نمائندوں نے اپنی اپنی رائے اور زمینی صورتِ حال سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
اجلاس میں طے پایا کہ آئندہ ہفتوں میں ہر ضلع اور وارڈ میں علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، جن میں مقامی کارکنان کو متحرک کرنے، گھر گھر رابطہ مہم چلانے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پارٹی کا پیغام زیادہ مؤثر طریقے سے پھیلانے کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔ نواب ملک نے شرکاء سے کہا کہ موجودہ حالات میں متحد ہو کر اور منظم منصوبہ بندی کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ جلد ہی عوامی جلسے اور رابطہ مہم کے بڑے پروگراموں کا اعلان کیا جائے گا، تاکہ پارٹی کی موجودگی شہر کے ہر کونے تک محسوس ہو۔ نواب ملک کی قیادت میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ممبئی میں ایک مضبوط انتخابی مقابلہ پیش کرنے کی تیاری میں مصروف ہے اور پارٹی قیادت کو امید ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں یہ محنت مثبت نتائج لے کر آئے گی۔
NCP Urdu News 14 August 25.docx