اقتدار کے نشے میں کھلے عام دھمکیاں دینے والے ایم پی ایم وایل اے پر لگام لگائیے:ناناپٹولے

آخریہ کس کے اشارے پرکھلے عام آنکھیں نکالنے اور ممبئی میں گھومنے نہ دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں؟

ممبئی:ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی کھلے عام دھمکیوں کے معاملے بڑھتے جارہے ہیں۔ یہ مہاراشٹرا کے لیے ایک سنگین معاملہ کے علاوہ نہایت تشویشناک بھی ہے۔حکمراں پارٹی کے وزراء، ایم پی اور ایم ایل اے ممبئی میں گھومنے پر آنکھیں نکالنے اور انہیں سبق سکھانے کی کھلم کھلا دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کو ان معاملات کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور اقتدار کے نشے میں بدمست ایسے غنڈوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔یہ باتیں آج کانگریس کے ریاستی نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

اس ضمن میں مزید بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ جب سے ریاست میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، حکمران جماعت کے لوگوں کی غنڈہ گردی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے پولیس افسران سے کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں ہندو حکومت ہے۔ اگر کوئی افسر ہندو بچوں کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھاتو اس کی آنکھیں اس کی جگہ پر نہیں رہیں گی۔ ایسے ماحول میں ریاستی پولیس افسران کیسے اپنا کام کریں گے؟ ایک مرکزی وزیر نے اپوزیشن کو خبردار کیا ہے کہ ممبئی و مہاراشٹر کے بارے میں بات کرنا مہنگا پڑے گا۔ ایک ایم ایل اے نے سرکاری ملازم کے ہاتھ پاؤں توڑنے کی دھمکی دی تھی۔ یہی نہیں، امراوتی کے ایم پی-ایم ایل اے رانا جوڑے پولیس اسٹیشن جا کر افسران سے بحث کرتے ہیں اور سرکاری کام میں مداخلت کرتے ہیں۔ ایم ایل اے خود کھلے عام کہتے ہیں گھوم رہے ہیں کہ پولیس کمشنر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ دادر میں حکمراں پارٹی کے ایم ایل اے اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔ پٹولے نے پوچھا ہے کہ یہ مہاراشٹر ہے یا اتر پردیش؟ کیا ریاست میں جنگل راج آ گیا ہے؟

پٹولے نے کہا کہ ریاست میں گزشتہ دو ماہ کی حکمرانی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہاراشٹر کس سمت جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی ملک میں اچھی ساکھ ہے، اسے خراب نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت کے ایم ایل ایز اور ایم پیز کے ذریعے جس طرح کی دھمکیاں دی جارہی ہیں وہ انتہائی سنگین ہیں۔ اگر ایم ایل اے، ایم پی، وزیر گاؤں کے غنڈوں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں اور حکومت ان کی حمایت کر رہی ہے تو ہم بطور اپوزیشن پارٹی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو حکمراں پارٹی کی اس غنڈہ گردی کو بروقت روکنا چاہیے اور ایسا وقت نہیں آنے دینا چاہیے کہ اپوزیشن کو اس کا جواب دینے کے لیے سڑکوں پراترنا پڑے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading