• 425
    Shares

مراٹھا واوبی سی ریزرویشن معاملے میں بی جے پی کی رکاوٹ

ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کی بی جے پی کی کوشش: اتل لونڈھے

ممبئی:مراٹھا واوبی سی ریزرویشن معاملے کو الجھانے میں سابقہ فڈنویس حکومت اور بی جے پی ذمہ دار ہے۔۱۲۰؍ویں آئینی ترمیم کے بعدریاستوں کو ریزرویشن کا اختیار نہیں ہونے کے باوجود فڈنویس حکومت نے ریزرویشن کی قرارداد منظور کرائی جو سپریم کورٹ میں رد ہوگئی۔ اس لئے مراٹھا برادری واوبی سی طبقے کے سیاسی ریزرویشن میں رکاوٹ ڈالنے میں فڈنویس حکومت وبی جے پی ہی ذمہ دار ہے۔ یہ باتیں آج مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کہی ہیں۔ وہ یہاں ریزرویشن کے معاملے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ۱۴؍اگست۲۰۱۸ کوپارلیمنٹ نے آئین میں 102 ویں ترمیم منظور کی اور ریزرویشن دینے کے ریاستی حکومت کے حق کو ختم کردیا گیا۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات کے ذریعے قرارداد منظور کرکے صدر کے دستخط کے ساتھ ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود ، ترمیم کے 90 دن بعد ، اس وقت کی دیویندر فڑنویس حکومت نے 30 نومبر 2018 کو گائیکواڈ کمیشن کی رپورٹ کو قانون کی شکل دے کو مراٹھابرادری کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاستی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا تو یہ ریزرویشن کیسے دیا گیا؟ کیا اس وقت کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا یہ فیصلہ تھا اورکیوں انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل کی تجویز کے مطابق یہ فیصلہ کیا ؟کیا ایڈووکیٹ جنرل نےاس وقت کے وزیراعلیٰ کو یہ نہیں بتایا کہ ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے ، آپ کو اسے مرکز کے پاس بھیجنا چاہئے اور این سی بی سی کے ذریعے صدر کے دستخط کے بعد ریزرویشن دینا چاہیئے ؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ 2017 میں ناگپور ضلع پریشد کے انتخابات کو ایک سرکلر کے مطابق فڑنویس حکومت نے ملتوی کر دیا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل کمبھ کونی سے مشورہ کیا تھا۔ اس کی بنیاد پر دیگر ضلع پریشدوں نے بھی الیکشن ملتوی کرنے کے لیے عدالت کا رخ کیا۔ اس کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے ایمریکل ڈیٹا سمیت کچھ سوالات اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں اوبی سی طبقے کے سیاسی ریزرویشن کے خلاف فیصلہ دیا۔

تیسری بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت کو انتخابات ملتوی کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کو درکار عملہ ریاستی حکومت کو فراہم کرنا ہوتا ہے۔اسی طرح مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے مہاراشٹر کو ایک مکتوب دیا گیا ہے کہ مہاراشٹر کورونا کے تیسری لہر کے دہانے پر ہے ۔ اس مسئلے کو اٹھائے بغیر ، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ انتخابات ملتوی کرنے کا حق الیکشن کمیشن کا ہے نہ کہ ریاستی حکومت کا۔ اس سلسلے میں مدراس اور الہ آباد ہائی کورٹس کے نتائج پر نظر ڈالنی چاہیے۔ ان ہائی کورٹس نے کہا ہے کہ چونکہ کوویڈ کے دور میں انتخابات ہوئے تھے ، اس لیے الیکشن کمیشن پر مجرمانہ قتل کا الزام کیوں نہیں عائد کیا جائے؟ یہ سب کچھ ہو نے کے باوجود مہاراشٹر میں سماجی ہم آہنگی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایک طبقے کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی سازش رچی جارہی ہے ۔

چندرکانت پاٹل اور دیویندر فڑنویس نے یہ تسلیم ہی نہیں کیا کہ 102 ویں ترمیم کی وجہ سے ریاستی حکومتوں کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے 127 ویں ترمیم کی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد دوبارہ ریاستی حکومتوں کو ریزرویشن کے اختیارات بحال کئے۔ لیکن اس میں مزید ایک پیچ پیدا کردیا اور وہ یہ کہ ۵۰ فیصد ریزرویشن کی حد نہ بڑھاتے ہوئے اسے اسی طرح برقرار رکھا۔ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے ، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار اور مراٹھا ریزرویشن سب کمیٹی کے چیئرمین اور وزیر برائے عوامی تعمیرات اشوک چوہان نے مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر وزیر اعظم سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ اندرا ساہنی کیس میں سپریم کورٹ کے ذریعے دیئے گئے 50 فیصد ریزرویشن کی حد ختم کی جانی چاہئے لیکن مرکزی حکومت نے اس مطالبے کو ٹال دیا اورصرف ریزرویشن کے اختیارات ریاستی حکومتوں کو دے کر اپنے ہاتھ اٹھالیے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی ریزرویشن مخالف اور بہوجن مخالف ہے۔ بی جے پی مراٹھا اور او بی سی کمیونٹی کو ریزرویشن دینا ہی نہیں چاہتی۔ اس کےپسِ پشت کس کی ذہنیت کارفرما ہے؟ کیا اس کے ذمہ دار غلط مشورہ دینے والے ایڈووکیٹ جنرل ہیں یا کسی کی نہ سننے والے اور یہ فیصلہ کرنے والے بی جے پی کے لیڈران ؟ یہ باتیں عوام کے سامنے بہت جلد آجائیں گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔