مہینے بھر میں 8 اموات کے باوجود ریاستی حکومت کو GBS بیماری کی سنگینی کا احساس نہیں: نانا پٹولے
مزید کتنی اموات کا انتظار کرے گی بی جے پی حکومت؟
ممبئی: ریاست میں GBS کا پہلا مریض سامنے آئے ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے، اور اس دوران اس بیماری کی وجہ سے 8 افراد کی جان جا چکی ہے۔ اب یہ بیماری ممبئی میں بھی پھیلنے لگی ہے، لیکن ریاستی حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ ریاستی حکومت پر یہ الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے عائد کیا ہے۔
یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا ہے کہ جی بی ایس کا پہلا مریض 9 جنوری کو پونے میں پایا گیا تھا، اور اب تک تقریباً 170 سے 175 مریضوں کی اطلاع ملی ہے۔ ان میں سے 100 سے زیادہ مریض پونے شہر، دیہی علاقوں اور پمپری-چنچوڑ کے آس پاس پائے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد مریض آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔ کل ممبئی میں بھی اس بیماری سے ایک مریض کی موت واقع ہوئی۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے سرکاری اسپتالوں میں جی بی ایس مریضوں کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کی ہدایات تو دی تھیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس پر مزید کیا کارروائی ہوئی؟ کیا حکومت نے اس کے لیے کوئی خاص اقدامات کیے ہیں؟
ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ جی بی ایس کے علاج میں استعمال ہونے والے ایک انجکشن کی قیمت تقریباً 20 ہزار روپے ہے، جو عام شہریوں کے لیے خریدنا ممکن نہیں۔ کیا ریاستی حکومت نے اس مہنگے علاج کے اخراجات میں مدد کے لیے کوئی انتظام کیا ہے؟ صرف زبانی احکامات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی موت ہوتے ہی ہم نے حکومت کو خبردار کیا تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپنے داخلی اختلافات میں اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ عوامی مسائل کی طرف اس کی کوئی توجہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاستی محکمہ صحت اس بیماری سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہے؟ اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ احتیاطی تدابیر اور عوامی بیداری کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ حکومت خود کی تعریف کے لیے کروڑوں روپے کی خرچ کرتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ جی بی ایس جیسی سنگین بیماری سے متعلق بیداری پیدا کرنے اور اس کے سدباب کے لیے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
سومناتھ سوریہ ونشی کی موت کی عدالتی تحقیقات ہائی کورٹ کے ججوں سے کروائی جائے: سدھارتھ ہتّی امبیرے
سومناتھ سوریہ ونشی کی موت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں ملازمت سے برطرف کیا جائے
ممبئی: پربھنی میں آئین کی بے حرمتی کے خلاف عوام پرامن طریقے سے احتجاج کر رہی تھی، لیکن پولیس نے نہ صرف ان پر لاٹھی چارج کیا بلکہ کومبنگ آپریشن کے ذریعے سیکڑوں امبیڈکر وادی عوام کو بے رحمی سے مارا اور کئی بے قصور شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ امبیڈکر وادی نظریات کے حامل نوجوان سومناتھ سوریہ ونشی کو بھی گرفتار کرکے حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔ لیکن اس معاملے میں حکومت نے پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔ اس لیے سومناتھ سوریہ ونشی کی موت کی تحقیقات ہائی کورٹ کے موجودہ ججوں کے ذریعے کرائی جائے اور قصوروار پولیس اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں نوکری سے برطرف کیا جائے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے درج فہرست ذات کے شعبے کے صدر سدھارتھ ہتّی امبیرے نے کیا ہے۔
پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سدھارتھ ہتّی امبیرے نے کہا کہ پربھنی میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے موجود آئین کے مجسمے کی بے حرمتی کی گئی تھی۔ اس کے خلاف شروع کی گئی تحریک کے بعد نوجوان وکیل سومناتھ سوریہ ونشی کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کی بربریت کی وجہ سے نہ صرف سوریہ ونشی بلکہ امبیڈکر وادی تحریک کے سینئر رہنما وجے واکونڈے کی بھی موت ہو گئی۔ اس واقعے کو دو ماہ گزر چکے ہیں، لیکن ان دونوں خاندانوں کو اب تک انصاف نہیں ملا۔ حکومت صرف تحقیقات کے نام پر پولیس کو تحفظ دے رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ کومبنگ آپریشن کے دوران جن امبیڈکر وادی عوام کے خلاف مقدمے درج کیے گئے ہیں، انہیں فوری طور پر ختم کیا جائے۔ سومناتھ سوریہ ونشی اور وجے واکونڈے کے خاندانوں کو فی کس 1 کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے، اور ان کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے۔ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل اور اٹروسیٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ پولیس تشدد میں زخمی ہونے والوں کو بھی معاوضہ دیا جائے۔
سدھارتھ ہتّی امبیڑے نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر ریاستی حکومت نے فوری طور پر امبیڈکر وادی عوام کو انصاف نہ دیا تو 3 مارچ کو مہاراشٹر بھر کے امبیڈکر وادی تحریک کے کارکنان اور آئین سے محبت کرنے والے شہری منترالیہ کا گھیراؤ کریں گے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کے ترجمان اور سلم سیل ممبئی کے صدر سریش چندر راج ہنس، درج فہرست ذات کے شعبہ ممبئی کے صدر کچرو یادو، جنرل سکریٹری مہندر منگیکر، رمیش کامبلے، راج والمیکی اور دیگر موجود تھے۔