بجلی کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کر کے دیویندر فڑنویس عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں

بجلی سستی نہیں بلکہ 16 فیصد مہنگی ہوگی: اتل لونڈھے

مہاراشٹر میں بجلی مہنگی جبکہ کرناٹک، تلنگانہ اور گجرات میں کم نرخ، اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ریاست کا استحصال

ممبئی: ریاست کے بجلی صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنے کا اعلان کرنے والے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے دعووں اور حقیقت میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے سینئر ترجمان اتل لونڈھے نے الزام عائد کیا ہے کہ پانچ برس میں بجلی کے نرخ پچاس فیصد کم کرنے اور پہلے سال دس فیصد کمی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اب بجلی کے نرخ کم ہونے کے بجائے سولہ فیصد تک بڑھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی کتھنی اور کرنی میں تضاد ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی نے مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے سامنے بیس سے چالیس فیصد تک بجلی نرخ میں اضافے کی تجویز پیش کی ہے، جس پر ناگپور میں عوامی سماعت بھی ہو چکی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ یہ پوری کارروائی اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ اضافے سے عام صارفین اور چھوٹے، متوسط صنعتکار شدید متاثر ہوں گے۔ پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان عوام پر بجلی نرخ میں اضافے کا اضافی بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔

اتل لونڈھے نے پڑوسی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گجرات میں گھریلو بجلی نرخ تین سے پانچ اعشاریہ دو روپے فی یونٹ، کرناٹک میں تین اعشاریہ سات سے سات اعشاریہ تین روپے فی یونٹ اور تلنگانہ میں دو سے دس روپے فی یونٹ ہیں، جبکہ مہاراشٹر میں یہی نرخ چار اعشاریہ چار سے بارہ اعشاریہ آٹھ روپے فی یونٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پیداواری لاگت تقریباً یکساں ہے تو مہاراشٹر میں بجلی سب سے مہنگی کیوں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریگولیٹری کمیشن ہر پانچ سال بعد کثیر سالہ ٹیرف آرڈر جاری کرتا ہے۔ مارچ 2025 میں جاری حتمی حکم کو صنعت اور معیشت کے لیے سازگار قرار دیا گیا تھا، لیکن بعد میں نظرثانی کی درخواست پر 25 جون 2025 کو بغیر نئی عوامی سماعت کے ترمیم شدہ حکم جاری کر دیا گیا۔ اس فیصلے کو مختلف تنظیموں اور سولر پروجیکٹ ڈیولپرز نے ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس کے بعد عدالت نے سابقہ حکم نافذ کرنے اور دوبارہ عوامی سماعت کی ہدایت دی۔

اتل لونڈھے نے خبردار کیا کہ مہنگی بجلی کے باعث نئی صنعتیں مہاراشٹر آنے سے گریز کر رہی ہیں اور کئی موجودہ صنعتیں دوسری ریاستوں میں منتقلی پر غور کر رہی ہیں، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ ترمیم شدہ حکم سے نرخ میں بیس سے چالیس فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس کا براہ راست اثر چھوٹے و متوسط صنعتکاروں پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگے نرخوں کے باعث کئی صارفین نے سولر توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی، مگر نئے حکم سے سرمایہ واپسی کی مدت مزید بڑھ جائے گی اور بینک قرض کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی۔ پیک آور کے اوقات میں تبدیلی سے بھی صارفین کو نقصان ہوگا۔

اتل لونڈھے نے مطالبہ کیا کہ 25 جون 2025 کا ترمیم شدہ حکم فوری منسوخ کیا جائے، 28 مارچ 2025 کا سابقہ حکم بحال کیا جائے اور سولر منصوبوں سے ہونے والی آمدنی کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت فوری مداخلت کرے اور دوبارہ عوامی سماعت منعقد کر کے صنعتی مستقبل کو محفوظ بنائے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading