مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کسان ومزدور مخالف: بالاصاحب تھورات ریاست کے کسانوں کی تنظیموں سے ملاقات،نئے زرعی قوانین کے نفاذکا معاملہ ہنوز معلق

ممبئی: مرکزی حکومت کے زرعی قانون کے خلاف ریاست بھر میں جاری کسانوں کے احتجاج کے درمیان اب ریاستی حکومت بھی اس متنازعہ قانون کے خلاف کسانوں کے ساتھ کھڑی نظر آنے لگی ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدراوروزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے آج یہاں ریاست کے کسانوں کی تنظیموں سے ملاقات کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت کسانوں کی بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدام کرے گی اوران کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناانصافی نہیں ہونے دے گی۔

گاندھی بھون میں انہوں نے کسانوں کی تنظیموں کے جن لیڈران سے ملاقات کی ان میں ایم ایل اے بھائی جگتاپ، وشواش اوٹگی، انٹک کے کیلاش کدم، دواکر دلوی، نرورتی دیسائی، آل انڈیا ٹریڈیونین کے کرشنا بھوئیر، اودیہ چودھری، سینٹرل آف انڈیا انڈین ٹریڈ یونینس کے سعید احمد، ہند مزدور سبھا کے سدھاکر اپراج وسنجے وڈھاوکر، ایکٹو کے اودیہ بھٹ ووجئے کلکرنی، اے آئی یوٹی یوسی کے انل تیاگی، اسٹیٹ گورنمٹنٹ ایمپل کنفیڈریشن کے وشواش کاٹکر، بھارتیہ کامگار سینا مہاسنگھ کے سنتوش چالکے، نیو ٹریڈیونین (این آئی یو آئی) کے ایم ایے پاٹل وملند راناڈے، شرمک ایکتا سنگھ کے دلیپ پوار، ٹریڈ یونین سینٹر آف انڈیا کے سنجئے سنگھوی، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری وسابق ایم ایل اے موہن جوشی وغیرہ موجود تھے۔

اس ملاقات کے بعد انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کوکسانوں کی ذرا بھی فکر نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی سوچ ہی کسان مخالف ہے۔ مرکزی حکومت نے دھناسیٹھ صنعتکاروں کو فائدہ پہونچانے کی غرض سے یہ زرعی قانون بنایا ہے۔ اس قانون سے کسانوں کو مکمل طور سے دھناسیٹھوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کا لازمی نتیجہ کسانوں کی بربادی کی صورت میں ہی ظاہر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر وممبئی میں کسانوں کی جو آوازبلند ہورہی ہے وہ پورے ملک میں گونج رہی ہے اور اس آواز کے اس وقت تک رکنے کا امکان نظر نہیں آرہا ہے جب تک کہ کسانوں کو برباد کرنے والا یہ قانون واپس نہیں ہوجاتا۔

بالاصاحب تھورات نے مزید کہا کہ آج پورے ملک میں کسانوں حکومت کے زرعی قانون کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں، مگر حکومت اتنی بے حس ہے کہ اسے ان کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔ میں کسانوں کی تنظیموں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل کو سمجھنے اور متنازعہ قانون کے منفی اثرات کو دیکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ ہماری حکومت پہلے سے ہی کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کسانوں کے مفاد سے ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ جب کابینہ میں اس معاملے میں پر بات ہوگی تو میں کسانوں کی نمائند گی کرتے ہوئے اس متازعہ قانون کی سفاکی کو روکنے کی کوشش کرونگا۔ مرکزی حکومت کے طریقہ کار پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بالاصاحب تھورات نے کہا کہ یہ حکومت ملک میں ایشوز پیدا کرکے اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے اور یہ کوشش گزشتہ ۶ سالوں سے جاری ہے۔ اسی کوشش کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کی معاشی حالت مکمل طور پرتباہ ہوچکی ہے، کسان بدحال ہوچکے ہیں اور بیرزگاری اپنے تاریخی بلندیوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت سماج میں بھید بھاوپیدااور مذہبی منافرت پیدا کرکے اقتدار پر کسی طرح برقرار رہنا چاہتی ہے اور اس کی پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے اقتدار سے ہاتھ نے نہ جائے۔مودی حکومت کی اسی طریقہ کار کی وجہ سے آج ملک گوناگوں مشکلات کا شکار ہے، مگر حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading