بی جے پی کے خلاف لڑنے والی پارٹیوں کو ساتھ لینے کا کانگریس کا موقف: ناناپٹولے
بی جے پی کسان مخالف پالیسیوں کی وجہ سے زرعی پیداوار کی کوئی قیمت نہیں ہے
ممبئی:2014 سے ملک میں جمہوری نظام، آئین،قانون وضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر من مانے طریقے سے حکومت کی جارہی ہے۔ مودی حکومت نے ملک کے تمام اداروں کو کٹھ پتلی بنا دیا ہے اور اپوزیشن پارٹیوں کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے کانگریس نے پہل کی ہے اور کانگریس پارٹی کا یہ موقف ہے ہ بی جے پی کے خلاف لڑنے والی تمام پارٹیوں کو ساتھ لیا جائے۔یہ وضاحت مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ملک کے تمام خود مختار اداروں میں مودی سرکار کی مداخلت بڑھ گئی ہے اورعدلیہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی حالت ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کو اس میں دخل اندازی کرنی پڑی ہے۔ انتظامی نظام میں بھی بڑے پیمانے پر مداخلت کی جارہی ہے۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال نہایت تشویشناک ہے، اس لیے کانگریس پارٹی نے جمہوری نظام کوبرقراررکھنے وآئین کی حفاظت کے لیے پہل کی ہے۔ رائے پور میں حال ہی میں منعقد ہونے والے کنونشن میں قومی صدر ملکا رجن کھرگے وممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی نے اس ضمن میں پارٹی کے موقف کو واضح کیا ہے اور و یہ ہے کہ بی جے پی کے خلاف لڑنے کے لیے جو سیاسی پارٹیاں آئیں گی انہیں ساتھ لیاجائے گا۔
ناناپٹولے نے کہا کہ ہم مسلسل کہتے رہے ہیں کہ بی جے پی کسان مخالف ہے۔چاہے وہ مودی سرکار ہو یا ریاست کی بی جے پی کی قیادت والی شندے حکومت، یہ حکومتیں کسانوں کے مفاد میں فیصلے نہیں کرتی ہیں۔ پیاز کی کوئی قیمت نہیں، دھان کی کوئی قیمت نہیں، کپاس، سویابین کا بھی یہی حال ہے۔ کاشتکاروں کے گھروں میں کپاس پڑی ہے جس کی وجہ سے کپاس پر کیڑے لگتے ہیں اور کسانوں کی صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ جب دھان منڈی میں آتا ہے تو قیمتیں کم ہو جاتی ہیں اور کسانوں کے دھان بیچنے کے بعد اس کی قیمت میں تقریباً ایک ہزار روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ پیاز، دھان، کپاس، سویابین، تور جیسی زرعی اجناس کی قیمتیں نہ ملنے کی وجہ سے کسان مشکلات کا شکار ہیں۔ کسانوں کی خودکشی کے واقعات بڑھ گئے ہیں، جب کسانوں کے ہاتھ میں فصل آتی ہے تو بازار میں ان کی کوئی قیمت نہیں رہتی ہے۔ گزشتہ نو سال سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ زرعی مصنوعات کی قیمتیں نہ ملیں۔ان باتوں کی وجہ سے کسانوں میں بی جے پی کے خلاف کافی غصہ ہے لیکن بی جے پی حکومت کو کسانوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔بی جے پی حکومت مٹھی بھر صنعتکاروں کے لیے کام کررہی ہے اور کسانوں کو بے آسرا چھوڑدیا ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اگر شہروں کے نام تبدیل کرنے سے کسانوں اور بے روزگاروں کو فائدہ ہوتا ہے، اگر مہنگائی کم ہوتی ہے، عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں تو ہر ضرور تبدیل کیجئے لیکن بی جے پی حکومت انسانی ضروریات کو نظر انداز کر کے عوام کوتوجہ دوسری جانب لے جانے کی پالیسی کے تحت کام کررہی ہے۔ اس سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ہندو مسلم تنازعہ پیدا کرکے سماجی اتحاد کو توڑا جارہا ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو، پھلے، امبیڈکر کی وراثت رکھنے والے مہاراشٹر میں اس طرح کے تنازعات بڑھانے سے کیا حاصل ہوگا؟ ملک میں غریبی بڑھتی جا رہی ہے اور دوسری طرف مٹھی بھر لوگ امیر ہو رہے ہیں، اس سے سماجی تفاوت بڑھ گیا ہے لیکن بی جے پی کویہ مسائل اہم نہیں لگتے ہیں۔
صحافیوں کے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اپوزیشن کے اسمبلی حلقوں میں کام نہیں ہونے دیا جارہا ہے۔ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے پر کارروائی کی جاتی ہے، لوگوں کے سوالات اٹھائے جائیں تو انکوائری کا ایک سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے اور انتخابی حلقوں میں کام روک دیا جاتا ہے۔ اورنگ آباد بنچ نے کہا کہ بجٹ میں منظور شدہ کام پر روک نہیں لگائی جا سکتی اس کے باوجود حکومت عدالت کی بات نہیں مان رہی ہے۔ اپوزیشن کو دبانے کا ’گجرات پیٹرن‘ مہاراشٹر میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔ اس لیے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے جو کہا ہے وہ بالکل درست ہے۔