MPCC Urdu News 05 October 2024

ریزرویشن کی 50 فیصد حد ہٹائی جائے گی اور ذات پر مبنی مردم شماری قانونی طور پر منظور کی جائے گی

کولہاپور میں ’سنویدھان سمّان سمیلن‘ میں لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا اعلان

کولہاپور: دلتوں و پسماندہ طبقات کے لوگوں کو صنعت، کاروبار، عدالت سمیت کہیں زیادہ موقع نہیں دیا جاتا۔ سرکاری اداروں کی نجکاری سے ریزرویشن ختم ہو رہی ہے۔ اس تصویر کو بدلنے کے لیے آئین کا تحفظ ضروری ہے اور اگر آئین کو بچانا ہے تو سب سے پہلے 50 فیصد ریزرویشن کی حد کو ہٹانا ہو گا۔ انڈیا الائنس اس حد کو ہٹائے گی اور لوک سبھا و راجیہ سبھا میں ذات پر مبنی مردم شماری منظور کی جائے گی۔ یہ اعلان لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کی ہے۔

رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کولہاپور میں ’سنویدھان سمان سمیلن‘ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ ملک میں کس ذات کی آبادی کتنی ہے، اس لیے ذات پر مبنی مردم شماری کرانا ضروری ہے۔ ذات پر مبنی مردم شماری ایک ایکسرے کی طرح ہے۔ ایکسرے کرنے کے بعد پتہ چلے گا کہ مسئلہ کیا ہے اور پھر اسے حل کیا جا سکتا ہے لیکن ذات پر مبنی مردم شماری کی بی جے پی، آر ایس ایس مخالفت کر رہی ہیں۔ وہ اس لیے مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ملک کے 90 فیصد لوگوں کو اصل معلومات کا علم نہیں ہے۔ لیکن ملک کے ان 90 فیصد لوگوں کے فائدے کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ذات پر مبنی مردم شماری کی منظوری دی جائے اور کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں ایسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ جن کے پاس ہنر، فن اور تجربہ ہے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں اسکول کے نصاب میں کچھ بھی نہیں ہے۔ دلتوں، پسماندہ طبقات کی تاریخ نہیں پڑھائی جاتی، ان کی تاریخ سے لوگوں کو واقفیت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے پر مخصوص لوگوں کا غلبہ ہے۔ غریب گھرانے کا بچہ ڈاکٹر، وکیل، انجینئر بننا چاہتا ہے لیکن ان میں سے کچھ کے خواب پورے ہوتے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں بھارت سپر پاور کیسے بنے گا؟

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ شاہو مہاراج نے کہا کہ ریزرویشن کے بغیر پسماندہ سماج کی ترقی نہیں ہوگی، یہی وجہ ہے کہ راجرشی شاہو مہاراج نے 1902 میں ریزرویشن نافذ کیا تھا تاکہ سب کے لیے مساوی حقوق کو یقینی بنایا جاسکے۔ راجرشی شاہو مہاراج اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے درمیان بہت قریبی تعلقات تھے۔ شاہو مہاراج کی طرف سے دی گئی ریزرویشن کی پیروی ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے کی اور اس کو آئینی درجہ دیا۔ آج اسی آئین کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ شاہو مہاراج نے اپیل کی کہ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی آئین کے محافظ ہیں اور ہمیں بھی ملک کے آئین کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس پروگرام میں ریاستی کانگریس کے انچارج رمیش چننیتھلا، ریاستی صدر نانا پٹولے، لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار، سابق وزیر اعلی سشیل کمار شندے، پرتھوی راج چوہان، گوا کے انچارج مانیک راؤ ٹھاکرے، ایم پی شاہو مہاراج، قانون ساز کونسل کے گروپ لیڈر ستیج عرف بنٹی پاٹل، ایم پی چندرکانت ہنڈورے، پرنیتی شندے، رجنی پاٹل، سی ڈبلیو سی کے ممبر اور ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری بی ایم سندیپ، کنال چودھری، قاضی نظام الدین، بی وی وینکٹیش، ایم ایل اے بھائی جگتاپ، یوتھ کانگریس کے صدر کنال راؤت، این ایس یو آئی کے عامر شیخ، ریاستی نائب صدر آرگنائزیشن اینڈ ایڈمنسٹریشن نانا گاونڈے، پرتیبھا شندے، سول سوسائٹی کے اشوک بھارتی، شبیر انصاری، ڈاکٹر انل جئے ہند، سبھاش یادو، وجےندر پال گوتم، پی ایس پاٹل اور دیگر موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading