فڈنویس نے لو جہاد اور ووٹ جہاد کا نام لے کر مساوات کے اقدار کی توہین کی ہے، عوام سے معافی مانگیں: نانا پٹولے
مہاراشٹر بی جے پی کے لیے اے ٹی ایم ہے، منی مشین کو بچانے کے لیے مودی-شاہ کی آخری کوشش
لاڈلی بہین یوجنا صرف ووٹ کے لیے، حکومت کو 64 ہزار لاپتہ لڑکیوں کا حساب دینا چاہیے
ممبئی: یہ انتہائی شرمناک ہے کہ ریاست کے وزیر داخلہ ’لو جہاد‘ اور ’ووٹ جہاد‘ جیسے بیانات دے رہے ہیں۔ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ وہ وزیر داخلہ کے طور پر بول رہے ہیں۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ فڑنویس نے لوجہاد اور ووٹ جہاد جیسے بیانات دے کر مساوات کے اقدار کی توہین کی ہے، انہیں عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
نانا پٹولے نے مزید کہا کہ شاید فڑنویس کو چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ مہاراج کی فوج میں اٹھارہ پگڑ ذات کے ماؤلے تھے اور ان کے ساتھ مسلمان بھی تھے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو، پھلے اور امبیڈکر نے مہاراشٹر اور ملک کو مساوات کا پیغام دیا۔ یہ مہاراشٹر کے لیے باعثِ شرم ہے کہ اسی ریاست کے وزیر داخلہ لو جہاد اور ووٹ جہاد جیسے بیانات دے رہے ہیں۔ اگر لو جہاد کی صورتیں ہیں تو کارروائی ہونی چاہیے۔ فڈنویس خود وزیر داخلہ ہیں، ان کے پاس کارروائی کا اختیار ہے، تو وہ کارروائی کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ ان کی ہی پارٹی کا ایک ایم ایل اے ایک مخصوص مذہب کی توہین کر کے مہاراشٹر کو تقسیم کرنے کی بات کر رہا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ فڑنویس اور مہایوتی حکومت ڈھائی سال کی ناکامی اور اپنی بدعنوانی کو چھپانے کے لیے ایسے بیانات دے رہی ہے جو مذہبی تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن ریاست کے سمجھدار لوگ ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔
پٹولے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ مہاراشٹر کو اے ٹی ایم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ ان پیسہ کمانے والی مشینوں کو بچانے کی ان کی آخری کوشش ہے جو انہیں پیسے دیتی ہیں۔ لیکن جتنا زیادہ مودی اور شاہ مہاراشٹر آئیں گے، اتنا ہی زیادہ فائدہ مہا وکاس اگھاڑی کو ہوگا۔ کانگریس پردیش کے صدر نے کہا کہ بی جے پی-شندے حکومت لاڈلی بہین یوجنا کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔ وہ اس کے اشتہارات پر کروڑوں روپے برباد کر رہی ہے جبکہ مہاراشٹر میں ایک سال میں 64 ہزار لڑکیاں اور خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں۔ حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ کیا یہ واقعی بہنوں سے محبت کرتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس حکومت کو ان لاپتہ بہنوں کے بارے میں بھی انکشاف کرنا چاہیے۔ پٹولے نے الزام لگایا کہ لاڈلی بہنا کی اسکیم صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے اسمبلی میں لاپتہ خواتین کے مسئلے پر سوال اٹھایا تو ریاستی حکومت اس کا جواب دینے سے بچتی رہی اور جب بھی اسمبلی میں لاپتہ خواتین کا مسئلہ اٹھایا گیا، تو ریاست کے وزیر داخلہ فڑنویس جواب دینے سے بھاگ گئے۔
پٹولے نے مزید کہا کہ حکومت ریاست کی خواتین کو لاڈلی بہین کہہ کر پکارتے ہیں اور بھنڈارا میں ڈبہ تقسیم پروگرام کے دوران پولیس خواتین پر لاٹھی چارج کرتی ہے۔ کیا دیویندر فڑنویس نے پولیس کو خواتین کو مارنے کا حق دیا ہے؟ بی جے پی شندے حکومت خواتین مخالف اور ان پر ظلم کرنے والی حکومت ہے۔ پٹولے نے مزید کہا کہ مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت کسان مخالف ہے۔ یہ حکومت صرف چند امیروں کی ہے۔ ریاست کے ہر جگہ خشک سالی ہے، زیادہ بارش کی وجہ سے دھان، کپاس، پھل اور سبزیوں جیسی تمام فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ حکومت سروے نہیں کروا رہی ہے۔ سویابین کو 4 ہزار روپے کا معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ ایم وی اے کی حکومت کے دوران بی جے پینے احتجاج کیا اور سویابین کے لیے 6 ہزار روپے قیمت کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈیزل، کھاد اور بیج مہنگے ہو گئے ہیں لیکن سویابین کی قیمت نہیں بڑھی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ کسان بحران میں ہیں اور اسی وجہ سے نوجوان کسانوں نے منترالیہ کے سامنے سویابین پھینک کر حکومت کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا ہے۔
اڈانی کے پروجیکٹ کے لیے حکومت کے ذریعے انتظامیہ کو مجبور کیا جا رہا ہے
بلڈر کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایس آر اے کے ذریعے غریبوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے
کریٹ سومیا کے ذریعے مسلمانوں کی تنقید پر سچن ساونت سخت برہم
ممبئی: ریاستی دارالحکومت اور ملک کی تجارتی دارالحکومت ممبئی میں بلڈروں کی مرضی سے ایس آر اے عوام پر کھلے عام ظلم کر رہی ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کے خلاف رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ اور ہم سخت جدوجہد کریں گے۔ ہم حکومت کی اس من مانی کو ہرگز نہیں چلنے دیں گے۔ یہ انتباہ آج یہاں کانگریس پارٹی کے ترجمان سچن ساونت نے دی ہے۔
سچن ساونت نے کہا ہے کہ باندرہ مشرق کے بھارت نگر علاقے میں بسیرا سوسائٹی کو دو دن کی غیر قانونی نوٹس دے کر ایس آر اے نے جو توڑ پھوڑ کی کارروائی کی تھی، اس سے حکومت کا ظلم واضح ہو گیا ہے۔ اڈانی کے پروجیکٹ کے لیے پوری انتظامیہ کو مجبور کیا جا رہا ہے۔ ایس آر اے بدعنوانی کا ایک مرکز بن چکا ہے۔ اس سوسائٹی کے کیس کی سماعت 12 جنوری 2024 کو شکایات ازالہ کمیٹی کی سربراہ اور محکمہ ہاؤسنگ کی ایڈیشنل چیف سکریٹری ولسا نائر نے کی تھی۔ اس کے بعد آٹھ ماہ بعد 30 اگست 2024 کو فیصلہ سنایا گیا۔
ساونت نے کہا کہ سول پروسیجر کے کوڈ کے آرڈر 20 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آخری سماعت کے ایک ماہ کے اندر یا زیادہ سے زیادہ دو ماہ میں فیصلہ سنایا جانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی تاریخ کا اعلان اپیل کنندہ کو کرنا لازمی ہے اور فیصلہ کھلے عام سنایا جانا چاہیے۔ لیکن یہاں فیصلے کو آن لائن ڈال کر خانہ پری کی گئی۔ اپیل کنندہ کو نیٹ پر آرڈر کیوں نظر نہیں آیا؟ یہ بھی ایک عجیب بات ہے۔ بہرحال! اس آرڈر کے تحت جمعہ کی آدھی رات کو کچھ لوگوں کو نوٹس دی گئی اور دو دن میں انہدام کا اعلان کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ولسا نائر، جن کی تقرری اڈانی کے دھاروی منصوبے کے لیے ہوئی تھی، نے کسی دوسرے شخص کو سماعت کے لیے کیوں نہیں کہا؟
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر فیصلے میں زیادہ وقت لگے تو دوبارہ سماعت ہونی چاہیے۔ اسی طرح حکومت نے ایس آر اے کو حکم دیا ہے کہ 30 ستمبر تک سرکاری یا نجی زمینوں پر توڑ پھوڑ نہ کی جائے، لیکن اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بہرحال ولسا نائر کے علاوہ ایس آر اے کے تمام افسران کے فون بند تھے۔ اس ظلم کو روکنے کے لیے رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ اور ہم بھرپور کوشش میں مصروف تھے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں افسران کو کارروائی روکنے کی درخواست کی کئی تاکہ مکینوں کو عدالت سے رجوع کرنے کا مناسب وقت مل سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری جدوجہد کامیاب ہوئی اوراور فی الحال توڑ پھوڑ کی کارروائی پر روک لگا دی گئی ہے۔
سچن ساونت نے کہا کہ کسی معاشرے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا دراصل ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صرف ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ اڈانی کا ڈی پی آر تیار ہونے کے باوجود بی جے پی مسلم معاشرے کو انتخابات کے پیش نظر نشانہ بنا رہی ہے۔ اڈانی کے ایجنٹ دھاروی کی دوبارہ تعمیر کرتے وقت سب کچھ توڑنے جا رہی ہے اور دھاروی کے باشندوں کو ڈمپنگ گراؤنڈ پر بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ سچن ساونت نے کہا کہ رام گیری مہاراج، نیتیش رانے، سومیا جیسے بہت سے بی جے پی رہنماؤں کو نفرت پھیلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ الیکشن کے بعد مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے گی۔