ممبئی:شندے-فڈنویس حکومت نے احمد نگر کا نام بدل کر اہلیا دیوی نگر رکھنے کا اعلان کیا ہے، کانگریس پارٹی اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔ لیکن بنیادی طور پر اس حکومت کے پاس عوام سے کہنے کو کچھ نہیں ہے اس لیے شہروں کے نام تبدیل کیے جارہے ہیں ۔شہر کا نام توتبدیل کر دیا گیا، لیکن راج ماتا اہلیادیوی ہولکر نے جس طرح سے سماجی کام کیا اور تمام مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں ، کیا شندے-فڈنویس حکومت بھی اسی طرز پر کام کرے گی ؟ یہ ایک اہم سوال ہے ۔یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ صرف شہروں کے نام تبدیل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اورنگ آباد اور عثمان آباد شہروں کے نام بھی تبدیل ہوئے لیکن اب بھی کنفیوڑن برقرار ہے۔ اب حکومت نے احمد نگر کا نام بدل کر اہلیہ دیوی نگر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ پٹولے نے کہا کہ راج ماتا اہلیا دیوی ہولکر کی یومِ پیدائش کے موقع پر یہ دھنگر برادری کو خوش کر کے کریڈٹ حاصل کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ بی جے پی کے دیویندر فڈنویس نے دھنگر برادری کو ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن نہیں دیا۔ یہ سب انتخابات کے پیشِ نظر ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیا جارہا ہے ۔کانگریس کے ریاستی صدرنے کہا کہ اہلیا دیوی ہولکرنے کبھی نفرت کی سیاست نہیں کی، سب کو ساتھ لے کر چلیں اور ریاست چلائی،جبکہ بی جے پی ذات پات اور مذاہب کے درمیان تنازعات پیدا کرنے کی سیاست کر تی ہے ۔
پٹولے نے کہا کہ ابھی دو دن پہلے دہلی کے مہاراشٹر سدن میں راج ماتا اہلیا دیوی اور ساوتری بائی پھلے کی مورتیوں کو ہٹا کر ان کی توہین کی گئی تھی اور اب شہر کا نام اہلیا دیوی ہولکر کے نام پر رکھنا بی جے پی کا دوغلا پن ہے۔ مہاراشٹر سدن میں اہلیہ دیوی اور ساوتری بائی کی توہین پر حکومت کو وضاحت دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دراصل عوام کو دھوکہ دینے والی، عوام کو لوٹنے والی اور عوام کی جیبیں کاٹنے والی بی جے پی حکومت ہر سطح پر ناکام ہے، اس لیے عوام بی جے پی کو اقتدار سے گرانے کے لیے پر عزم ہیں۔
ریزرویشن کے نام پر مراٹھا اور کنبی کے درمیان تنازعہ پیدا کرنے کی بی جے پی کی سازش
ریزرویشن پر بی جے پی کا موقف سب کو معلوم ہے کہ بی جے پی ریزرویشن مخالف پارٹی ہے۔ ریاست میں 2014-19 میں فڈنویس کی حکومت تھی۔ انہیں کی حکومت نے مراٹھا برادری کو 16 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ فڈنویس حکومت کے پاس کوئی اختیار نہ ہونے کے باوجود انہوں نے گائیکواڑ کمیشن کا تقرر کیا تھا۔ناناپٹولے نے کہا کہ بی جے پی ریزرویشن کے نام پر مراٹھا برادری کو گمراہ کر رہی ہے اور کنبی و مراٹھاسماج کے درمیان تنازعہ پیدا کر رہی ہے۔ بی جے پی کی اس ڈپلومیسی سے مراٹھا اور کنبی سماج واقف ہے۔ وہ بی جے پی کے بیانیے اور اقدامات سے بھی واقف ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس کے ذریعے بی جے پی صرف اپناسیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔
2 اور 3 جون کو کانگریس کی لوک سبھا حلقہ وار میٹنگ
ممبئی:لوک سبھا انتخابات کی تیاری کے لیے مہاراشٹر پردیش کانگریس نے 2 اور 3 جون کو پارٹی دفترتلک بھون میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا ہے۔ اس میٹنگ میں ریاست کے لوک سبھا سیٹوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ریاستی صدر نانا پٹولے کی صدارت میں ہونے والی اس میٹنگ میں ریاست کے تمام سرکردہ لیڈران اور تمام ضلعی صدور شرکت کریں گے۔
یہ میٹنگ جمعہ (آج)2 جون کو صبح 10.30 بجے شروع ہوگی اور پہلے دن سندھو درگ رتناگیری، تھانے، دھولیہ، نندوربار، جلگاوں، راویر، احمد نگر، شرڈی، ناسک، دنڈوری، لاتور، بلڈھانہ، اکولا، امراوتی،ایوت محل ، واشیم، گڈچرولی چمور، چندر پور، بھنڈارا، گوندیا، وردھا، ناگپور، رام ٹیک اور پالگھر حلقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ سنیچر 3 جون کو، پونے، سانگلی، کولہاپور، ہات کنگلے، ستارا،شولاپور،ماڈھا، بارامتی، شیرور، ماول، رائے گڑھ، ناندیڑ، ہنگولی، اورنگ آباد، جالنہ، پربھنی، عثمان آباد، بیڑ، تھانے، بھیونڈی اور کلیان کے حلقوں کا جائزہ لیا گیا۔
کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے کی قیادت میں ہونے والی اس میٹنگ میں قانون ساز کونسل کے پارٹی کے لیڈر بالا صاحب تھورات، سابق وزیر اعلی سشیل کمار شندے، اشوک چوہان، پرتھوی راج چوہان، ریاستی ورکنگ صدر عارف نسیم خان، بسوراج پاٹل، چندرکانت ہنڈورے،ایم ایل اے پرنیتی شندے،ایم ایل اے کنال پاٹل، مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں کانگریس پارٹی کے تمام سابق وزرا، قانون ساز کونسل کے گروپ لیڈر ستیج پاٹل اور ریاستی الیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے اراکین موجود رہیں گے۔ اس کے علاوہ لوک سبھا حلقہ کے سرکردہ لیڈران، ضلع انچارجز، سابق ممبران پارلیمنٹ، ایم ایل ایز، ضلعی صدور، 2019 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے امیدوار، اگھاڑی تنظیموں اور ضلع کے ڈویڑن صدور بھی موجود رہیں گے۔