وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ

وزیر داخلہ عوام سے معافی مانگ کر فوری طور پر استعفیٰ دیں: نسیم خان

ممبئی: شمال وسطی ممبئی کے چاندیولی اسمبلی حلقے میں سابق وزیر اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کے ورکنگ صدر محمد عارف (نسیم) خان کی قیادت میں بھیم آرمی اور مختلف سماجی تنظیموں کے لوگوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ لوک سبھا میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے بارے میں وزیر داخلہ کے متنازعہ اور توہین آمیز بیان کے خلاف تھا۔

یہ احتجاجی مظاہرہ ساکی ناکہ کے پینینسولا ہوٹل سے شروع ہوا اور زور دار نعروں کے ساتھ چاندیولی میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے پر پھولوں کی مالا چڑھانے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ مظاہرے کے اختتام پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ لوک سبھا میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے خلاف بیان دینے والے امت شاہ کو عوام کے سامنے معافی مانگنی چاہیے اور فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد ملک بھر میں خاص طور پر مہاراشٹر میں دلت اور پسماندہ طبقات کے خلاف مظالم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

نسیم خان نے کہا کہ چاہے وہ مہاراشٹر کے پربھنی اور بیڑ میں ہونے والے واقعات ہوں یا ممبئی کے پوائی کے جے بھیم نگر میں پسماندہ طبقے کے خاندانوں کو بے گھر کرنے کے واقعات ہوں، ایسے متعدد واقعات پورے ملک میں ہو رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت اور ان کے لیڈر مختلف سماجی طبقات کے خلاف بیانات دے کر سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کی بدولت آج ملک کی 140 کروڑ عوام کو جمہوری نظام کے تحت زندگی گزارنے کا حق ملا ہے۔ لیکن اگر بی جے پی اور ان کے لیڈر ایسے بیانات دے کر سماج میں تفریق پیدا کریں گے تو عوام اسے ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ ہم ایسی حکومت اور ان کے لیڈروں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس احتجاجی مظاہرے میں متعدد سماجی و سیاسی شخصیات کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ ان میں سادو کٹکے، پرکاش بھیڈے، گوتم ساولے، شنکر واگھ، یوگیرراج بھوسلے، کمار کامبلے، وجیر ملا، بھرت سنگھ، شہزاد شیخ، منوج تیواری، ریاض ملا، سنجے اپادھیائے، مرتضیٰ انصاری، آکاش باگلے، انیل لونڈھے، اور دیگر شامل تھے۔ خواتین کی بڑی تعداد بھی احتجاج میں موجود تھی جن میں سولوچنا مھالسنگھ، کمرو نسا شیخ، فریدہ شیخ، رادھیکا پوار، اور دیگر شامل تھیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading