Latur news

10

ہنوز میں اندھیرے میں ۔۔۔ سميلن صدر انیسہ شیخ
پونے میں فاطمہ بی شیخ مراٹھی ساہتیہ سمّیلن کا اوّلین اجلاس کا اختتام ۔۔
پونے (شہاب مہدی کبیر) دیہی مسلم مراٹھی ساہتیہ پریشد کے زیرِ اہتمام 8/ جنوری 2023 بروز اتوار پونے میں فاطمہ بی شیخ مراٹھی ساہتیہ سمّیلن کے اوّلین اجلاس منعقد ہوا۔ٹیکا رام جگنّ اتھ کالج کھڑکی پونے میں منعقدہ اس سمّیلن کا آغاز گرنتھ ڈنڈی سے ہوا۔ اس کی قیادت ایڈوکیٹ جئے شری بوڈیکر نے کی۔جس میں سمّیلن کی صدر انیسہ سکندر شیخ، صدر استقبالیہ بی ایچ مخدوم،شعراء میں شفیع بولڈیکر، سلیم شیخ ،ایڈوکیٹ ہاشم پٹیل، صدر عاملہ انتخاب فراش شامل تھے۔ اس دوران اسلامی مراٹھی ادبی کتابوں کی نمائش کا افتتاح شاعر شفیع بولڈیکر کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ساہتیہ سمّیلن کا ابتدائی اجلاس معروف شاعرہ انیسہ سکندر شیخ کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس کا افتتاح صوفی سنت ادب کے ڈاکٹر سید جبّار پٹیل کی موجودگی میں مہمان خصوصی بال بھارتی کے مدیر عاملہ کیرن بیندرے، پرنسپال ای جا تامبولی، غزل گو صابر سولاپوري، مدیر ہفت روزہ قاصد ایوب نلا مندو،وشال ولجکر، پربھا سونونے، سیتا رام نرکے، ڈاکٹر ریشما سیّد، سندیپ بروے، رضیہ جمعدار، کی موجودگی میں عمل میں آیا۔
فاطمہ بی شیخ مراٹھی ساہتیہ سمّیلن کی صدر انیسہ سکندر شیخ نے اپنے صدارتی خطبے میں اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ "مسلم سماج کی اولین اُستانی فاطمہ بی شیخ ابھی تک لا علمی کے اندھیرے میں ہی تھیں۔تاہم اب دیر سے صحیح فاطمہ بی کے کارناموں کو روشنی میں لایا گیا ہے۔اور آج اسی کا پرتو موجودہ ساہتیہ سمّیلن کی شکل ہمارے سامنے ہے۔اور اس کی صدارت کا اعزاز مجھے حاصل ہوا۔آج جو میں آپ حضرات کے سامنے ہوں یہ فاطمہ بی کے احسانات ہیں۔لہٰذا میں نے " فاطمہ بی" نامی کتاب کے ذریعے اس انقلابی تاریخ کی منظوم انداز میں عوام تک پہنچانے کی کوشش ہے۔" اجلاس کا افتتاحیہ خطبہ بانی سمّیلن شفیع بولڈیکر نے پیش کیا۔پونے کی معاشرتی ادب کی مصنفہ تمنّا انعامدا ر کو بیادسکندر لطیف شیخ " یوگ ستری فاطمہ بی شیخ سماج بھوشن ایوارڈ" اور کولہاپور کی شاعرہ نسیم جمعدار کو " یوگ ستري فاطمہ بی شیخ ساہتیہ رتن ایوارڈ" سے نوازا گیا۔ اسی اجلاس میں نسیم جمعدار کا تحریر کردہ یک بابی ڈرامہ " نو مینس لینڈ" اور سمّیلن کی یادگار ساؤنیر " سپندن" کی رسم اجراء بھی عمل میں آئی۔
سمّیلن کے دوسرے اجلاس میں معروف مراٹھی شاعر ایڈوکیٹ ہاشم پٹیل کی صدارت میں مراٹھی مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔جس میں ریاست کے تقریبا 90 شعراء نے حصہ لیا۔ سراج شیکلگر، درشن پرکاش جوشی، شیخ جعفر، ورشالی پنڈت، نسیم جمعدار، شریشیالیا سوتار، رضیہ جمعدار، مبارک ملانی،شبانه ملّا، کی شاعری کو سامعین نے پسند کیا۔
اجلاس کے اختتامی تقریب میں قرارداد پیش کی گئی کہ" ساوتری بائی پھلے پونے یونیورسٹی میں " فاطمہ بی شیخ" کے نام سے آزادانہ مطالعے گاہ قائم کر کے ان کے تئیں عقیدت کا اظہار کیا جائے، اور دوسرا " فاطمہ بی مراٹھی ساہتیہ سمّیلن " سولاپور میں لیا جائے۔ ان دو قراداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔جس کا اعلان شاعر و صحافی ایوب نلا مندو نے کیا۔ اس وقت امباداس شندے، مظہر اللو ڈی شگفتہ فراش، ڈاکٹر ریشما سید، ملکہ سید، موجود تھے۔
اجلاس کی نظامت ایڈوکیٹ جئے شری بوڈیکر، شبانہ ملّا، خواجہ بھائی باغبان نے کی۔اور انتخاب فراش نے شکریہ ادا کیا۔

Md.Muslim Kabir,
Latur Distt. Correspondent ,
URDU MEDIA,
9175978903/8208435414
alkabir786