ڈاکٹر ذاکرنائک ہندوستان لوٹنے کوتیار، لیکن یہ شرطیں رکھیں

جکارتا:(ایجنسیز)ہندوستان سے ملیشیا جا چکے اسلامی اسکالر ذاکرنائک نے ایک انٹرویو میں اپنے شرط پرہندوستان لوٹنے کی بات کہی۔ بی جے پی حکومت اورہندوستان کے انصاف کے عمل پربھی اپنی رائے کا اظہارکیا۔اسلامی اسکالراورمبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک نے کہا ہے کہ وہ ہندوستان لوٹنے کے لئے تیارہیں،لیکن اس شرط پرسپریم کورٹ انہیں یہ یقین دہانی کرائے کہ قصورثابت ہونے تک انہیں گرفتارنہیں کیا جائے گا۔ 2016 میں ہندوستان سے ملیشیا جاکررہنے والے ذاکرنائک کو ملیشیا کی حکومت نے واہاں کے مقامی شہری کا اسٹیٹس دے دیا ہے۔مشہورنیوزمیگزین ‘دی ویک’ کو دیئے انٹرویو میں ڈاکٹر ذاکرنائک نے کہا کہ انہیں انصاف کے عمل پرمکمل بھروسہ تو ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ عمل آج کے مقابلے پہلے بہترتھا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے حکومت میں آنے سے قبل ہندوستان میں حکومت کے خلاف بولا جاسکتا تھا۔ کم ازکم 80 فیصد ایسی امید بھی تھی کہ آپ کو انصاف ملے گا، لیکن اب 10 سے 20 فیصدی یہ حالت رہ گئی ہے۔ڈاکٹر ذاکرنائک نے انٹرویو میں مزید کہا ‘اگرآپ تاریخ دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ جن مسلمانوں پردہشت گردی کے الزام لگائے گئے، ان میں سے 90 فیصد کو 10 سے 15 سالوں کے بعد آزاد کردیا گیا۔ تو اگرمیں ایک اوسط لے کرچلوں تو مجھے تقریباً 10 سال تک سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے گا اوراس سے میرے مشن پرکافی فرق پڑے گا، میں کیوں بے وقوف بنوں’؟
اسلامی مبلغ نے کہا کہ اگر این آئی اے چاہے تووہ ملیشیا میں پوچھ گچھ کے لئے تیارہیں۔ کیا انصاف کا وعدہ ملنے پرذاکرنائک ہندوستان لوٹ سکتے ہیں؟ اس پرانہوں نے جواب دیا کہ ‘اگر ہندوستان کا سپریم کورٹ یہ یقینی بنائے کہ ڈاکٹر ذاکرنائک کو قصوروارثابت ہونے تک گرفتارنہیں کیا جائے گا، تو میں لوٹ سکتا ہوں’۔واضح رہے کہ ڈاکٹر ذاکرنائک کے خلاف این آئی اے نے تب کیس درج کیا تھا جب بنگلہ دیش کے ڈھاکہ میں گلشن ہولی آرٹسن بیکری میں دہشت گردانہ حملے میں ذاکرنائک کا نام اچھالا گیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ تنظیم نے لی تھی، جسے دہشت گرد تسلیم کیا جاتا ہے۔ یکم جولائی 2016 کو ہوئے اس حملے میں 20 لوگ مارے گئے تھے، جن میں سے زیادہ ترغیرملکی تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading