تین طلاق آرڈیننس: اسد الدین اویسی کی مودی پرشدید تنقید

0 0

نئی دہلی،19ستمبر(پی ایس آئی) مودی کابینہ نے تین طلاق یعنی ٹرپل طلاق پر آرڈیننس کی منظوری دے دی، مگر آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایم پی اسد الدین اویسی نے اس آرڈیننس پر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے اور اسے مسلم خواتین کے خلاف بتایا ہے. اویسی نے ٹرپل طلاق کے بہانے وزیر اعظم سے ان شادی شدہ خواتین کے لئے قانون لانے کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں ان کے شوہروں کی طرف انتخابی حلف نامہ میں نام دےےتے ہیں کہ وہ بیوی کے ساتھ رہتے ہیں، مگر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے. اتنا ہی نہیں، اویسی کا کہنا ہے کہ فوری ٹرپل طلاق کے خلاف لائے گئے آرڈیننس سے مسلم خواتین کو انصاف نہیں ملے گا. بتا دیں کہ آج پی ایم مودی کی صدارت میں کابینہ نے تین طلاق پر آرڈیننس کی منظوری دے دی اور اب اسے 6 ماہ کے اندر اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرواناہو گا. آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایم پی اسد الدین اویسی نے فوری ٹرپل طلاق کے خلاف لائے گئے آرڈیننس پر کہا، "یہ آرڈیننس مسلم خواتین کے خلاف ہے … اس آرڈیننس سے مسلم خواتین کو انصاف نہیں ملے گا … اسلام میں شادی ایک سماجی معاہدہ ہے، اور اس میں سزا کی فراہمی کو شامل کرنا غلط ہے. ‘ آگے اویسی نے کہا کہ ‘یہ آرڈیننس غیر آئینی ہے. یہ آرڈیننس آئین میں دیے گئے مساوات کے حقوق کے خلاف ہے، کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کے لئے بنایا گیا ہے. آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور عورت تنظیموں کو اس آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج دینی چاہئے. ” اویسی نے کہا کہ ‘میں وزیر اعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ان شادی شدہ خواتین کے لئے قانون کی قومی ضرورت ہے، جن کی تعداد 24 لاکھ ہے اور ان کے شوہر اپنے انتخابی حلف نامہ میں کہتے ہیں کہ وہ شادی شدہ ہیں مگر بیوی ان کے ساتھ نہیں رہ رہی ہیں . وزیر اعظم کو ان ترک کری شادی شدہ خواتین کے لئے قانون لانا چاہئے.