ہندوستان میں ہندو سماج کی جو قبیح رسمیں مسلم سماج میں بھی آ گئی ہیں ان میں سے ایک رسم جہیز کی ہے ۔ اس کی بنا پر نہ جانے کتنی لڑکیاں کنواری بیٹھی رہ جاتی ہیں اور کتنے خاندان تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ۔ ہندو سماج میں مذہبی طور پر عورت کو ملکیت اور وراثت کا حق حاصل نہیں تھا ، اس بنا پر اسے شادی کے موقع پر ہی کچھ دے دلا کر رخصت کیا جانے لگا ۔ بعد میں اس چیز نے ایک گھناونی رسم کی شکل اختیار کرلی ، جس کی پابندی لازمی ٹھہری ۔
اسلام نے نکاح کے مصارف کا بار لڑکے اور اس کے گھر والوں پر ڈالا ہے اور لڑکی اور اس کے گھر والوں کو ہر طرح کے خرچ سے آزادرکھا ہے ۔ پھر نکاح کے بعد بیوی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر عاید کی ہے ۔ بعض حضرات اس سلسلے میں غلط طریقے سے ‘جہیز فاطمی’ کا حوالہ دیتے ہیں ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہؓ کے نکاح کے وقت ان کے ہونے والے شوہر حضرت علی ؓ سے ، جو آپ ہی کی زیر کفالت تھے ، کچھ رقم حاصل کی اور اس سے گھر گرہستی کے لیے کچھ ضروری سامان کا انتظام کیا ۔ اگر لڑکی والوں کی طرف سے اس کی فراہمی ضروری ہوتی تو آپ اپنی دوسری صاحب زادیوں کے نکاح کے موقع پر بھی ضرور اس کا انتظام کرتے ، حالاں کہ آپ سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے ۔
قابل مبارک باد ہیں وہ نوجوان جو اس قبیح رسم سے بے زاری کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ اپنے نکاح کے وقت جہیز نہیں لیتے اور دوسرے جوانوں تک بھی اس پیغام کو پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
