سیّد علی انجم رضوی
مسلمانوں کی قدیم عبادت گاہ کو فرقہ وارانہ عناصر نے شہید کر دیا۔ مسجد کی شہادت کے بعد بھارت کی سپریم کورٹ کے فیصلے سے وہاں اب رام مندر کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے۔ برسرِ اقتدار سیاسی قیادت نے اس مسئلے کو بھی مذہبی رنگ دے کر اپنے ہی دورِ حکومت میں اِس مندر کا افتتاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کاروائی کے ذریعے برسرِ اقتدار قیادت آنے والے انتخابات میں فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اسی کے مطابق 22 جنوری 2024ء بروز پیر کو ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح ہونے جا رہا ہے۔ اس موقع کی مناسبت سے ہر طرف زعفرانی ماحول تیار ہو گیا ہے۔ مہینہ بھر سے ایسا ماحول بنانے کے لیے برسرِ اقتدار جماعتیں اور ان کے کارندے تگ و دو کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف مندر کے افتتاح کے لیے پورے ملک میں جوش ولولہ نظر آرہا ہے تو دوسری طرف کہیں کہیں مذہبی کشیدگی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
ماحول میں ایک عجیب قسم کا تناؤ محسوس کیا جا رہا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے 22 جنوری کو اپنے گھروں میں دیے جلاؤ تو کوئی کہہ رہا ہے کہ ہر طرف آرتی کی جائے۔ کوئی اس دن دیوالی کی طرح جشن منانے کا خواہاں ہے تو کچھ مصلحت پسند لوگ یہ چاہتے ہیں کہ سبھی مذہب کے ماننے والے اس جشن میں شرکت کریں۔ ایک مسلمان کے لیے بڑے ہی امتحان کی گھڑی ہے۔ ایک طرف تو وہ اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے تشویش میں مبتلا ہے تو دوسری طرف وہ ان غیر شرعی حرکتوں میں ملوث ہو کر اپنے ایمان سے ہاتھ بھی دھونا نہیں چاہتا۔ اس کے ایمان کا دارومدار توحید و رسالت پر ہے اور وہ کوئی بھی ایسا عمل نہیں کرنا چاہتا جس سے عقیدہء توحید کو ٹھیس لگے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف مسلمانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
اس تَذَبذُب کے ماحول میں مسلمانوں کو اپنے حقیقی قائدین کی سخت ضرورت ہے جو دینی خطوط پر رہنمائی کرتے ہوئے اس ہنگامہ آرائی میں اُن کے ایمان اور جان و مال کی حفاظت کا سامان پیدا کریں۔ مگر افسوس کچھ مذہبی قیادتیں مصلحت کا واسطہ دے کر توحید کا سودا کرتی نظر آرہی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو حکمت عملی کے نام پر مشرکانہ رسوم میں شریک ہونے کے ایسے مشورے دے رہی ہیں جس سے ان کے ایمان کے تحفظ کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایک مسلمان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے ایمان کی دولت ہے۔ وہ اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اس سرمائے کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔
ایسے کفر و الحاد کے ماحول میں بین الاقوامی سطح پر مذہبی، سماجی اور تعلیمی شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم رضا اکیڈمی نے بہت ہی دانشمندانہ فیصلہ لیا ہے۔ ہمیشہ ہی اس طرح کے نازک مذہبی معاملات میں مسلمانوں کی حقیقی قیادت کا فرض ادا کرنے والے رضا اکیڈمی کے بانی الحاج محمد سعید نوری نے اعلان کیا ہے کہ 22 جنوری کو ملک کے مسلمان بلا کسی خوف و خطر کے اپنے اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشغول رہیں۔ صبر و سکون کا دامن تھامے رہیں۔ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی میں شامل نہ ہوں۔ کوشش کریں کہ اس دن اللہ رب العزت کی وحدانیت اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رسالت کا خشوع و خضوع کے ساتھ ذکر کریں اور کثرت سے کلمہء طیبہ کا وِرد کرتے رہیں۔ مدارسِ اسلامیہ، خانقاہوں اور مزارات پر بھی کلمہء طیبہ کے وِرد کو حرزِ جاں بنائیں۔ کلمہء طیبہ کے وِرد سے جہاں مسلمانوں کے ایمان میں پختگی اور اس پُر آشوب دور میں مسلمانوں کو ہمت و حوصلہ ملے گا وہیں کفر و الحاد کی آندھیاں بھی اپنا منہ پھیر لیں گی۔
ایسے نازک دور میں کلمہء طیبہ کے وِرد کا مشورہ دے کر الحاج محمد سعید نوری نے مسلمانوں کی شعوری نمائندگی کا حق ادا کیا ہے۔ لہٰذا ان کے اس مشورے پر عمل کیا جانا وقت کی ضرورت اور مسلمانوں کے مفاد میں بہتر عمل ہے۔ ہر طرف مسلمان رضا اکیڈمی کے اس اقدام کی ستائش کر رہے ہیں اور الحاج محمد سعید نوری کے اس فیصلہ کی دل کی گہرائیوں سے تائید و حمایت کر رہے ہیں۔ اللّہ رب العزت اس پُر آشوب ماحول میں مسلمانوں کے ایمان اور جان و مال کی حفاظت فرمائے۔