ہالی ووڈ انڈسٹری بھی غزہ کی حمایت میں

دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ میں بھی غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور ہزاروں بچوں اور عورتوں سمیت ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا ۔ یہ مظاہرین میں عام لوگ نہیں بلکہ ہالی ووڈ سٹارز تھے، جن میں اداکار اور اداکارائیں دونوں شامل تھے۔ حالیہ جنگی تاریخ کا یہ غالباً پہلا موقع ہے اس اہم فلمی مرکز نے بھی سر عام فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔

واضح رہے تیسرے ماہ میں داخل ہو چکی اسرائیل حماس جنگ کے دوران اب تک امریکہ یورپ وغیرہ میں متعدد سلیبرٹیز کو غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر ان کے خلاف انضباطی کارروائی کی جا چکی ہے، انہیں اسرائیل کی طرف سے سخت رد عمل کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بہت سے میڈیا ورکرز کو امریکہ اور یورپ میں جواب طلبیوں اور نوٹسز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جبکہ اسرائیلی بمباری سے اب تک 80 سے زائد میڈیا ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو بمباری کر کے ہلاک کیا جا چکا ہے۔ یہی معاملہ مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے سپورٹس پرسنز اور کھلاڑیوں کے ساتھ ہو چکا ہے کہ انہوں نے کسی موقع پر غزہ کے فلسطنیوں کی حمایات کر دی یا فلسطینی پرچم کی تصویر نمایاں کر دی ۔

ہالی ووڈ کے اداکاراوں اور اداکاراؤں کو بھی اس سلسلے میں سنسر شپ کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ ان کو غزہ کے حق میں زبانیں بند رکھنے کا بھی مختلف طریقوں سے بتا دیا جاتا ہے، اسی سب کچھ منگل کے روز ہالی ووڈ میں بیسیوں فنکاروں نے غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کا اہتمام کیا۔

اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام ہالی ووڈ میں ‘ یو ٹی وی ‘ یونائیٹڈ ٹیلنٹ ایجنسی اور میٹرو گولڈ وین مئیر کے دفاتر کے سامنے درجنوں سٹارز نے جمع ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کی ۔ ان میں کئی نے جنگ بندی کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔ اسی طرح مین گزہ ہوں کے نعروں پر مبنی پلے کارڈز بھی اٹھائے ہو ئے تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد احتجاج تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading