سبزیوں کے نام پر کیا آپ پلاسٹک اپنے جسم میں داخل کر رہے ہیں اور یہ صحت کے لیے کتنی نقصاندہ ہے؟

724

پلاسٹک کی آلودگی جدید طرزِ زندگی کی ایک اہم ’میراث‘ ہے، لیکن اب یہ اتنی زیادہ پھیل چکی ہے کہ اس کے ذرّات ہماری ان سبزیوں میں بھی سامنے آ رہے ہیں جو ہم کھاتے ہیں۔پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات (مائیکرو پلاسٹک) کرّہِ ارض کے ہر حصے میں سرایت کر چکے ہیں۔ وہ انٹارکٹک کی سمندری برف میں، سمندر کی گہری کھائیوں میں رہنے والے سمندری جانوروں کی آنتوں اور دنیا بھر میں پینے کے پانی میں سرایت کر چکے ہیں۔پلاسٹک کی آلودگی دور دراز، غیر آباد جزیروں کے ساحلوں پر پائی گئی ہے اور یہ سمندری پانی کے نمونوں میں بھی نظر آئی ہیں۔ ایک تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا کے سمندروں کے بالائی حصوں میں پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات (مائیکرو پلاسٹک) کے تقریباً 24.4 کھرب اجزا موجود ہیں۔

لیکن یہ صرف پانی ہی میں ہر جگہ نہیں ہیں۔ یہ زمین پر بھی مٹی میں وسیع پیمانے پر پائے گئے ہیں اور یہاں تک کہ ہماری غذا میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم نادانستہ تقریباً ہر نوالے کے ساتھ پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات کھا رہے ہیں۔سنہ 2022 میں ’انوائرنمینٹل ورکنگ گروپ‘، جو ماحولیات کے مطالعے کی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ’سیویج سلج‘ (sewage sludge) یعنی نکاسی کے گند نے امریکی فصلوں کی تقریباً دو کروڑ ایکڑ (80,937 مربع کلومیٹر) زمین کو انسانوں کے بنائے ہوئے ایسے کیمیائی عناصر مادوں سے آلودہ کر دیا ہے جو کبھی بھی تلف نہیں ہوں گے یعنی جنھیں ’ہمیشہ کے لیے برقرار رہنے والے کیمیکلز‘ کہا جاتا ہے، اور یہ عام طور پر پلاسٹک کی مصنوعات میں پائے جاتے ہیں اور عام ماحولیاتی حالات میں ٹوٹ کر ختم نہیں ہوتے ہیں۔

’سیویج سلج‘ (sewage sludge) شہروں کے گٹروں کے گندے پانی کو صاف کرنے کے بعد بچ جانے والا مادہ ہے۔ چونکہ اس کی باقیات کو ٹھکانے لگانا مہنگا پڑتا ہے اور اس کے علاوہ یہ نامیاتی غذائیت سے مالا مال ہوتا ہے، اس لیے اسے امریکہ اور یورپ میں نامیاتی کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔مؤخر الذکر میں اس کا اس طرح کا استعمال معیشت کو فروغ دینے کے لیے یورپین یونین کے رہنما اصولوں کے مطابق کیا جاتا ہے تاکہ جزوی طور پر استعمال ہونے والے اس فضلے کو پھر سے استعمال کیا جائے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال یورپ میں اسی لاکھ ٹن سے ایک کروڑ ٹن ’سیویج سلج‘ پیدا ہوتا ہے، اور اس کا تقریباً 40 فیصد کھیتوں میں پھیلایا جاتا ہے۔

برطانیہ کی کارڈِف یونیورسٹی کے محققین کے ایک مطالعے کے مطابق، اس فضلے کو نامیاتی کھاد کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے یورپی زراعتی نظام مائکرو پلاسٹک کا سب سے بڑا عالمی ذخیرہ بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 31,000 سے 42,000 ٹن مائیکرو پلاسٹکس، یا 86 کھرب سے 710 کھرب مائیکرو پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہر سال یورپی کھیتوں کو آلودہ کرتے ہیں۔

محققین کے مطالعے سے پتہ چلا کہ 65 کروڑ مائیکرو پلاسٹک یعنی چھوٹے چھوٹے اور بہت ہی مہین ذرات، جن کی پیمائش ایک ملی میٹر اور 5 ملی میٹر کے درمیان ہو سکتی ہے، ہر روز برطانیہ کے خطے جنوبی ویلز میں ایک سیویج سلج کو گندے پانی کی صفائی کے پلانٹ میں لے جاتے ہیں۔پلاسٹک کے یہ تمام ذرات سیویج کیچڑ کی باقیات میں رہ جاتے ہیں، جو صاف پانی کے ساتھ جانے کے بجائے اسی کیچڑ کے کل وزن کا تقریباً ایک فیصد حصہ بنتا ہے۔

مطالعہ کے ایک شریک مصنف اور کارڈِف یونیورسٹی میں ہائیڈرو انوائرنمنٹل ریسرچ سینٹر کی ڈپٹی ڈائریکٹ، کیتھرین وِلسن کہتی ہیں کہ مائیکرو پلاسٹکس کی تعداد جو کھیت کی زمینوں تک پہنچتے ہیں ان کے بارے میں شاید ’ایک کم اندازہ ہے۔ مائکرو پلاسٹک ہر جگہ ہوتے ہیں اور (اکثر) اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے ہیں۔‘

اور مائیکرو پلاسٹک اس ماحول میں بھی زیادہ دیر تک قائم رہ سکتے ہیں۔ فلپس یونیورسٹی ماربرگ میں مٹی پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کی ایک حالیہ تحقیق میں دو زرعی کھیتوں میں سطح زمین سے 90 سینٹی میٹر (35 انچ) نیچے تک مائکرو پلاسٹکس پائے گئے۔ یہ وہ کھیت تھے جہاں 34 سال پہلے آخری بار سیویج کیچڑ پھینکا گیا تھا۔

ہل چلانے سے پلاسٹک ان کھیتوں کی اس گہرائی تک پہنچ گیا تھا۔

کارڈِف سٹڈی کے سرکردہ مصنف اور ہائیڈرو انوائرمینٹل ریسرچ سینٹر میں پی ایچ ڈی ریسرچ کے طالب علم جیمز لوفٹی کا کہنا ہے کہ یورپ میں کھیتوں کی زمینوں پر مائیکرو پلاسٹک کا ارتکاز سمندر کی سطح کے پانیوں میں پائی جانے والی مقدار کے برابر ہے۔وِلسن اور لوفٹی کی تحقیق کے مطابق، برطانیہ میں یورپ میں مائیکرو پلاسٹک کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے، جہاں ہر سال 500 سے 1000 مائکرو پلاسٹکس وہاں کے کھیتوں میں پھیلتے ہیں۔

لوفٹی کا مزید کہنا ہے کہ زمین پر مائیکرو پلاسٹکس کے ایک بڑے ذخیرے کی تخلیق کے ساتھ ساتھ سیویج سلج یعنی کیچڑ کو کھاد کے طور پر استعمال کرنے کا رواج بھی ہمارے سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی کے بحران کو بڑھا رہا ہے۔بالآخر مائیکرو پلاسٹک آبی گزرگاہوں میں پہنچ جائے گا، کیونکہ بارش مٹی کی اوپری تہہ کو ندیوں میں بہا کے لے جاتی ہے یا زمینی پانی میں دھو دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے دریاؤں اور سمندروں میں (پلاسٹک) کی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ پانی کا یہی بہاؤ سے ہے۔‘

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں سائنسدانوں کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 99 فیصد مائیکرو پلاسٹک کو وہاں سے لے جایا گیا جہاں سے گند نکاس کے کیچڑ کو آبی ماحول میں پھینکا گیا تھا۔

ماحولیاتی آلودگی
تاہم اس سے پہلے کہ پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات بہائے جائیں، اس کے زہریلے کیمیکلز پانی میں بہہ سکتے ہیں۔ لوفٹی کے مطابق، مائیکرو پلاسٹکس نہ صرف عموماً نقصان دہ کیمیکلز سے بنائے جاتے ہیں بلکہ مائیکرو پلاسٹک دیگر زہریلے مادوں کو بھی جذب کر سکتے ہیں، جس سے وہ بنیادی طور پر زرعی زمین کو متاثر کر سکتے ہیں جہاں سے وہ مٹی میں ہمیشہ کے لیے قائم رہ سکتے ہیں۔

برطانیہ کی ماحولیاتی ایجنسی کی ایک رپورٹ سے پتا چلا کہ انگلینڈ کے کھیتوں کے لیے بنایا گئے سیویج کا فضلہ آلودگیوں سے بھرا ہوا ہے جس میں ڈائی آکسینز اور پولی سائکلک آرومیٹک ہائیڈرو کاربن کا عناصر شامل ہیں یہ آمیزش ’اس سطح کی ہوتی ہے جو انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔‘

امریکہ کی کنساس یونیورسٹی کی ماہر زراعت میری بیت کرخام کے 2020 کے ایک تجربے سے پتا چلا ہے کہ پلاسٹک پودوں کے زہریلے کیمیکل جیسے کیڈمیم کے اخراج کے لیے ایک ویکٹر کا کام کرتا ہے۔ کرخام نے اس وقت کہا کہ ’جن پودوں میں کیڈمیم پلاسٹک کے ساتھ مٹی میں موجود تھا وہاں گندم کے پتوں میں ان پودوں کی نسبت بہت زیادہ کیڈمیم موجود تھا جو مٹی میں پلاسٹک کے بغیر اُگے تھے۔‘تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کینچوؤں کی نشوونما کو روک سکتا ہے اور ان کا وزن کم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس وزن میں کمی کی وجوہات پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آئی ہیں، لیکن ایک نظریہ یہ ہے کہ مائیکرو پلاسٹکس کینچوؤں کے ہاضمے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، ان کی غذائی اجزا کو جذب کرنے کی صلاحیت کو محدود کر کے ان کی نشو و نما کو متاثر کر سکتے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ اس کا وسیع ماحول پر بھی منفی اثر پڑتا ہے، کیونکہ کیچڑ میں موجود نامیاتی غدائی عناصر مٹی کی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی نشو و نما کی سرگرمی مٹی کو جِلا بخشتی ہے، کٹاؤ کو روکتی ہے، پانی کی نکاسی کو بہتر بناتی ہے اور نامیاتی غذائی اجزا کو دوبارہ سے قابلِ استعمال بناتی ہے۔

پلاسٹک کے ذرات کھانے کی فصلوں کو بھی براہ راست آلودہ کر سکتے ہیں۔ سنہ 2020 کے ایک مطالعے میں سپر مارکیٹوں کے ذریعے فروخت ہونے والے پھلوں اور سبزیوں میں اور اٹلی کے جزیرے سِسلی میں کیٹینیا میں مقامی آڑھتیوں کی طرف سے فروخت کی جانے والی مصنوعات میں مائیکرو پلاسٹک اور نینو پلاسٹکس کے موجود ہونے کا پتہ چلا ہے۔ وہاں سیب سب سے زیادہ آلودہ پھل تھے، اور گاجروں میں نمونے کی گئی سبزیوں میں مائیکرو پلاسٹک کی سب سے زیادہ مقدار تھی۔

نیدرلینڈ کی لیڈن یونیورسٹی میں ماحولیاتی زہریلے اور حیاتیاتی تنوع کے پروفیسر ولی پیجننبرگ کی تحقیق کے مطابق، فصلیں نینو پلاسٹک کے ذرات کو پانی اور مٹی ان کی جڑوں میں چھوٹی دراڑوں کے ذریعے جذب کرتی ہیں جو ایک نینو میٹر سے سو نینو میٹر سائز کے چھوٹے چھوٹے ذرّے، یا انسانی خون کے سفید خلیوں سے تقریباً 1000 سے 100 گنا چھوٹے بنتے ہیں۔

تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر پلاسٹک پودوں کی جڑوں میں جمع ہوتا ہے، جس کی بہت کم مقدار ٹہنیوں تک جاتی ہے۔ پروفیسر ولی پیجننبرگ کا کہنا ہے کہ ’پتوں میں ارتکاز ایک فیصد سے کم ہے۔‘انھوں نے خبردار کیا کہ پتوں والی سبزیوں جیسے سلاد کے پتے اور بند گوبھی کے لیے پلاسٹک کی مقدار نسبتاً کم ہونے کا امکان ہے، لیکن جڑ والی سبزیوں جیسے گاجر، مولی اور شلجم میں مائکرو پلاسٹک کے بڑی مقدار میں موجود ہونے کا خطرہ زیادہ ہو گا۔

پروفیسر ولی پیجننبرگ اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے ایک اور مطالعہ سے معلوم ہوا کہ سلاد کے پتے (لیٹس) اور گندم دونوں میں، مائکرو پلاسٹکس کے ذرات ارد گرد کی مٹی کے مقابلے میں 10 گنا کم تھے پروفیسر ولی پیجننبرگ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پتہ چلا کہ سب سے چھوٹے اور مہین سے ذرات پودوں میں شامل ہوجاتے ہیں جبکہ پلساٹک کے نسبتاً بڑے ذرات شامل نہیں ہو پاتے ہیں۔‘

پیجننبرگ کا کہنا ہے کہ یہ سطح بھی کس حد تک تسلی بخش ہے۔ تاہم بہت سے مائیکرو پلاسٹک آہستہ آہستہ انحطاط پذیر ہو جائیں گے اور نینو پارٹیکلز میں ٹوٹ جائیں گے، جو ’پودوں کی افزائش کے لیے ایک اچھا ذریعہ‘ فراہم کرتے ہیں۔’ماحول کو پلاسٹک سے مکمل طور پر پاک کرنے میں کئی دہائیاں لگیں گی‘پروفیسر ولی پیجننبرگ کی تحقیق کے مطابق، پلاسٹک کے ذرات کا اخراج فصلوں کی نشوونما کو روکتا دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن ہمارے کھانے میں پلاسٹک کے اس جمع ہونے کا ہماری اپنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے، اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

پیجننبرگ کا کہنا ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب مسئلہ مزید بڑھے گا تو پھر ایسی تحقیق کی اور بھی زیادہ ضرورت ہو گی۔وہ کہتے ہیں کہ ’ماحول کو پلاسٹک سے پاک کرنے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔ اگرچہ اس وقت خطرہ بہت زیادہ نہیں ہے، لیکن (کھیتوں کی مٹی پر) مستقل کیمیکل رکھنا اچھا خیال نہیں ہے۔ وہ وہیں رہ جائیں گے اور پھر وہ خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

صحت پر مضر اثرات
اگرچہ انسانی صحت پر پلاسٹک کھانے کے اثرات کو ابھی تک پوری طرح سے سمجھا نہیں گیا ہے، لیکن اس بارے میں پہلے ہی کچھ تحقیق موجود ہے جو بتاتی ہے کہ یہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ پلاسٹک کی تیاری کے دوران شامل کیمیکل انسانی جسم کے اینڈوکرائن سسٹم اور ہارمونز کو متاثر کرسکتے ہیں جو ہماری نشوونما کو منظم کرتے ہیں۔

پلاسٹک میں پائے جانے والے کیمیکلز کینسر، دل کی بیماری اور جنین کی خراب نشوونما سمیت دیگر صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ برطانیہ میں یونیورسٹی آف ہل کے محققین کے تجزیے کے مطابق، مائیکرو پلاسٹکس کی زیادہ مقدار انسانی خلیوں (سیل) کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو سوزش اور الرجی کا باعث بن سکتی ہے۔

محققین نے پچھلی 17 تحقیقات کا جائزہ لیا جس میں انسانی خلیوں پر مائکرو پلاسٹک کے زہریلے اثرات کو دیکھا گیا۔ تجزیے نے لیبارٹری ٹیسٹوں میں خلیوں کو نقصان پہنچانے والے مائیکرو پلاسٹک کی مقدار کا موازنہ پینے کے پانی، سمندری غذا اور نمک کے ذریعے کیے جانے والے لوگوں کی سطح کے جائزے سے کیا۔اس جائزے سے پتہ چلا کہ جو مقدار پودوں میں شامل ہو رہی ہے وہ لوگوں میں الرجک جیسے رد عمل پیدا کر سکتی ہیں اور خلیے (سیل) کی موت کو متحرک کرسکتی ہیں، لیکن یہ مدافعتی ردعمل کے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں، سیل کی دیواروں کو اور آکسیڈیٹیو تناؤ کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

اس تحقیق کے سرکردہ مصنف اور ہل یارک میڈیکل سکول کے ایک محقق، اوینجالوس ڈانوپولس کہتے ہیں’ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہم خلیات پر نقصان دہ اثرات کے ساتھ ہم آہنگ سطحوں پر مائیکرو پلاسٹکس کھا رہے ہیں جو بہت سے معاملات میں صحت کو متاثر کرنے کا ابتدائی عمل ہے۔‘’ہم جانتے ہیں کہ مائیکرو پلاسٹک خلیات کی رکاوٹوں کو عبور کر سکتے ہیں اور انھیں توڑ بھی سکتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ وہ خلیات پر آکسیڈیٹیو تناؤ کا باعث بھی بن سکتے ہیں جو کہ بافتوں کو پہنچنے والے نقصان کا آغاز ہے۔‘

ڈانوپولوس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں اس وقت دو نظریات ہیں کہ کس طرح مائیکرو پلاسٹک انسانی خلیوں (سیل) کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پلاسٹک کے تیز دھار ذرات خلیوں (سیل) کی دیوار کو کاٹ سکتے ہیں یا مائیکرو پلاسٹک میں موجود کیمیکل سیل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔تحقیق سے پتا چلا ہے کہ فاسد شکل والے مائیکرو پلاسٹک انسانی خلیوں (سیل) کی موت کا سبب بنے کے سب سے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔ڈانوپولوس کا کہنا ہے کہ ’اب ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے جسم میں کتنے مائیکرو پلاسٹک باقی رہ گئے ہیں اور کس قسم کا سائز اور شکل سیل کی رکاوٹ کو عبور کرنے کے قابل ہے۔ اگر پلاسٹک اس سطح پر جمع ہو جائے جس پر وہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ نقصان دہ بن سکتے ہیں تو یہ انسانی صحت کے لیے اور بھی زیادہ خطرہ بن سکتا ہے۔

لیکن ان جوابات کے بغیر بھی ڈانوپولس سوال کرتے ہیں کہ کیا مائیکرو پلاسٹک فوڈ چین میں داخل نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم جانتے ہیں کہ ’سیویج سلج‘ یعنی گند نکاس کی کیچڑ مائیکرو پلاسٹک سے آلودہ ہوتی ہے اور پودوں میں اسے مٹی سے نکالنے کی صلاحیت ہے تو کیا ہمیں اسے کھاد کے طور پر استعمال کرنا چاہیے؟‘

’سیویج سلج‘ کے استعمال پر پابندی
ہالینڈ میں 1995 سے کھیتوں کی مٹی پر ’سیویج سلج‘ یعنی گند نکاس کی کیچڑ چھوڑنے پر پابندی عائد ہے۔ اس ملک نے ابتدائی طور پر اس کیچڑ کو جلانا شروع کیا، لیکن ایمسٹرڈیم کے جلانے کے پلانٹ میں مسائل کے بعد اسے برطانیہ کو برآمد کرنا شروع کر دیا گیا جہاں اسے فارم پر کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔سوئٹزرلینڈ نے 2003 میں یہ کہہ کر اس کیجڑ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ ’صنعت اور نجی گھرانوں کے ذریعہ تیار کردہ نقصان دہ مادوں اور پیتھوجینک جانداروں کی کئی انواع و اقسام پر مشتمل ہے‘۔امریکی ریاست میئن نے بھی اپریل 2022 میں اس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جب ماحولیاتی حکام نے کھیت کی مٹی، فصلوں اور پانی میں ہمیشہ برقرار رہنے والے کیمیکلز کی موجودگی کی اعلی سطح پائی۔ کسانوں کے خون میں بھی انھی کیمیکلز (پی ایف اے ایس) کی اعلی سطح کا بھی پتہ چلا۔ وسیع پیمانے پر آلودگی نے کئی کھیتوں میں اس کے استعمال کو بند کرنے پر مجبور کیا۔امریکی ریاست میئن کا نیا قانون کیچڑ کو دوسرے نامیاتی مواد کے ساتھ کمپوسٹ کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔

لیکن کارڈِف یونیورسٹی کے وِلسن کہتی ہے کہ سیویج سلج یا کیچڑ کو کھاد کے طور پر استعمال کرنے پر مکمل پابندی ضروری نہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ پابندی ایک بہترین حل ہو۔ اس کے بجائے یہ کسانوں کو قدرتی گیس سے بنی مصنوعی نائٹروجن کھادوں کے استعمال کی ترغیب دے سکتا ہے۔ولسن تجویز کرتی ہیں کہ مائیکرو پلاسٹک کی زیادہ مقدار والی جگہوں پر، سیویج کیچڑ کو کھاد کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے توانائی پیدا کرنے کے لیے جلایا جا سکتا ہے۔ ولسن اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کھیتوں کی آلودگی کو روکنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ گندے پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس میں چکنائی، تیل اور گرِیس (جس میں مائیکرو پلاسٹک کی زیادہ مقدار ہوتی ہے) کو بازیافت کیا جائے اور ’زمینی سطح پر جمع ہونے والے اس گند (سرفیس سکم) کو کیچڑ میں ملانے کے بجائے بائیو فیول کے طور پر استعمال کیا جائے۔

محققین نوٹ کرتے ہیں کہ کچھ یورپی ممالک، جیسے اٹلی اور یونان، جو ’سیویج سلج‘ کیچڑ کو لینڈ فل سائٹس (دفنانے کی جگہوں) میں ٹھکانے لگاتے ہیں، لیکن وہ متنبہ کرتے ہیں کہ ان جگہوں سے مائیکرو پلاسٹکس کے ماحول میں رسنے اور آس پاس کی زمین اور آبی ذخائر کے آلودہ ہونے کا خطرہ ہے۔ولسن اور ڈانوپولوس دونوں کا کہنا ہے کہ کھیت کی زمین پر مائیکرو پلاسٹک کی مقدار اور ممکنہ ماحولیاتی اور صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ڈانوپولوس کہتے ہیں کہ ’مائیکرو پلاسٹک اب ایک آلودگی سے محفوظ کرنے والے ایجنٹس کے بجائے آلودہ کرنے والے ایجنٹس میں تبدیل ہونے کے قریب ہے۔ آلودگی ایک ایسی چیز ہے جو وہاں پائی جاتی ہے جہاں اسے نہیں ہونا چاہیے۔‘’مائیکرو پلاسٹک ہمارے پانی اور مٹی میں نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ (ان کے) منفی اثرات ہیں، یعنی کہ یہ انہیں آلودہ بنا دے گا تو (ہمیں) کچھ کرنا پڑے گا، ہمیں قانون سازی کرنا ہوگی اور نئے ضابطے بنانا پڑیں گی۔‘(بی بی سی فیچر)