شجر کاری کے بغیر فضائی آلودگی پر کنٹرول پانا ناممکن:قاری محمد طیب قاسمی

آنند نگر مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) ہر سال کی طرح امسال بھی شجر کاری مہم کے دوران دارالعلوم فیض محمدی کے کیمپس میں سیکڑوں کی تعداد میں پھل وپھول دار پودے لگائے گئے، اس موقع پر دارالعلوم فیض محمدی کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے شجر کاری کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: اسلام میں جہاں درختوں کی کٹائی سے منع کیا گیا ہے، وہیں شجر کاری کی تلقین بھی کی گئی ہے، کیوں کہ اس میں دین ودنیا کے لئے بے شمار فائدے ہیں، ہر دور میں اس پر توجہ دی جاتی رہی ہے ، ماحولاتی آلودگی سے تحفظ اور انسان کو صاف وشفاف ہوا کے لئے درختوں اور پودوں کا ہونا بہت ضروری ہے ، اس سے انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔آپ نے مزید کہا کہ شجر کاری کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب چاروں طرف آلودگی نے بسیرا ڈال رکھا ہو ، صاف وشفاف ہوا کے لئے انسان ترس رہا ہو، اور زہر آلود ہوائیں نسل انسانی کی صحت کو بری طرح سے متاثر کررہی ہوں۔
دارالعلوم فیض محمدی کے ناظم اعلیٰ مولانا سعدر شید ندوی نے بھی شجرکاری کی افادیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ: شجرکاری کے بغیر فضائی آلودگی پر کنٹرول پانا نا ممکن ہے، ہمیں اعتراف ہے کہ اگر ایک طرف درختوں اور پودوں سے پھل وپھول فراہم ہوتے ہیں ، تو وہیں دوسری طرف ان کے ذریعہ شدید دھوپ میں راہ گیروں کے لئے سایہ کا انتظام بھی ہوتا ہے ، ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ درختوں اور پودوں کا وجود ، آسمان سے ابر رحمت کے اترنے کا سبب بھی ہوتا ہے، نیز درختوں سے کائنات کا قدرتی حسن بھی دوبالا ہوتا ہے، درجہ حرارت میں تخفیف ہوتی ہے، اور سب سے بڑا فائدہ یہ کہ فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والے جراثیم کو یہ پیڑ پودے اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں،
دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے اس موقع پر کہا کہ: ہم سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت پوری دنیا میں گلوبل وارمنگ(عالمی حدت) پیدا ہوگئی ہے، روئے زمین پر کہیں فضائی آلودگی، آبی آلودگی تو کہیں صوتی آلودگی و شعاعی آلودگی روز بروز بڑھتی جارہی ہے، فیکٹریوں اور سڑکو ں پر دوڑتی ہوئی گاڑیاں، فضائی اور بحری جہازوں سے نکلنے والے دھوو ¿ں سے آلودگی کا مسئلہ مزید پیچیدہ پیدا ہوگیا ہے۔ایسی صورتحال میں سرسبز پودے ، گھنے باغات اور جنگلات کے لئے شجر کاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
شجر کاری مہم کے موقع پر دارالعلوم فیض محمدی کے استاذ ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مفتی احسان الحق قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، مولانا محمد سعید قاسمی، حافظ ذبیح اللہ ،ماسٹر محمد عمر خان ، ماسٹر جاوید احمد ، محمد قاسم ، ملامحمد مسلم ، مولانا محمد قیصر فاروقی، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر شمیم احمد وغیرہ موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading