بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی!

40

باسمہ تعالی

*(حضرت مولانا نسیم اخترشاہ قیصرصاحب کشمیری)*

*ازقلم۔محمد عبداللہ مہاراشٹر*

باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے، اس دنیا کی ہر شخصیت ، خواہ وہ کتنی ہی دل کش، بر بہار، ہردلعزیز اور کتنی ہی زندگی افروز ہو بالآخر ایک نہ ایک دن اسے جانا ہے۔ آگے اور پیچھے کا فرق ضرور ہے ؛ لیکن ہم میں سے کون ہے جو یہاں ہمیشہ رہنے کے لیے آیا ہو۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر، اور اسی نظامِ خداوندی کے تحت علم و ادب کے شہسوار ادیبٖ زماں اور ہمارے مشفق و مربی حضرت اقدس مولانا محمد نسیم اختر شاہ قیصر کشمیری صاحب -نور اللہ مرقدہ- حکمِ ربی پر لبیک کہتے ہوئے آج بروز اتوار عصر کے وقت -یکشنبہ- عیسوی سال ٢٠٢٢ کے ماہ ستمبر تاریخ ،مطابق ۱۳ صفرالمظفر ۱۴۴۴ھ کو اپنےخالقِ حقیقی ، مالکِ حقیقی اور شہنشاہِ دو جہاں کی طرف کوچ کر گئے تھے -انا للہ و انا الیہ رجعون-

آپ ایک طویل عرصے تک دارالعلوم وقف دیوبند کے اکابر اساتذہ میں رہتے ہوے، اپنے کو ایک ادنی سا خادم سمجھتے رہے ، اوربڑی محنت و مشقت، جد و جہد ،جاں فشانی اور خون جگر سے دارالعلوم کو سیچتے رہے تن ، من، دھن سے دارالعلوم کی خدمت کرتے رہے۔انھوں نے دیوبند میں طلبہ کو مضمون نویسی و انشا پردازی کی تربیت دینے کے لئے "مرکز نوائے قلم”کے نام سے ایک ادارہ بھی شروع کیا تھا، جس کے ذریعے سینکڑوں طلبہ نے تحریر و تصنیف کی تربیت حاصل کی ہے۔
ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً دو درجن ہے۔پچھلے سال اکتوبر میں بہ یک وقت ان کی سات کتابوں کا اجرا ہوا تھا۔

آپ کی طبیعت میں نہ کوئی تصنع تھا ،مزاج میں نہ کوئی تکلف تھا، کھانے پینے میں جو دسترخوان پرموجود ہوتا تناول فرمالیتے ، لباس میں جو میسر ہوتا پہن لیتے، بسا اوقات نو وارد شخص آپ کی سادگی کو دیکھ کر حیرت و استعجاب کے لہجے میں گویا ہوتا کہ : یہ علامہ انور شاہ کے پوتے ہی ہیں ؟ واللہ سادگی کی سچی تصویر ہیں ۔

آپ بڑے ملن سار، خوش مزاج اور با اخلاق تھے، چناں چہ اگر کسی شخص کی آپ سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوتی تو آپ کے طرز ،رویے ،عادت اور اخلاق سے ایسا محسوس ہوتا، کہ آپ کا اس سے صدیوں پرانہ رشتہ ہے۔

اسی طرح آپ کا دل اصلاحِ معاشرہ کے متعلق بہت فکر مند رہتا تھا ،اور آپ اس کی ہر ممکن کوشش اور سعی فرماتے تھے، کہ مسلمانوں کو اپنے مضامیں و مقالہ میں اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پرعمل کرنے کی ترغیب دیتے ، رسومات و بدعات سے بالکلیہ احتراز کرنے کی دعوت دیتے ، والدین کو بچوں کو قرآن کی تعلیم اور اسلامی ماحول کے مطابق پرورش کرنے پر ابھارتے تھے

اسی طرح آپ اپنے شاگردوں کی علمی ،وعملی میدان میں ترقی سے خوشی کا اظہار فرماتے، ،اور ان کو شاباشی،داد اور دعا سے بھی نوازتے۔
آہ ! آج ان محاسن و خوبیوں کی حامل شخصیت کی باتیں اور یادیں ہی یادگار بن کر رہ گئی ۔
آپ کی وفات کی خبرلوگوں پرایک صاعقہ بن کرگری،اور علاقے سے نکل کربجلی کی طرح پھیلتی چلی گئی ، اور حضرت کے آخری دیدار کے لیے بڑے بڑے علماء،اولیاء،صلحاء ،بزرگانِ دین،اور عوام و خواص کا ایک سیلاب امنڈ پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے نمازِجنازہ میں شرکت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید جمع ہوگۓ۔اور عشاء کی نماز کے بعد تقریبا گیارہ بجے جامعہ انور شاہ کےایک وسیع و عریض میدان میں حضرت رحمۃاللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمن صاحب کی اقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور”مزارِ انوری” نامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا ۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

موجودہ دور میں جب کوئی بڑا آدمی دنیا سے جاتا ہے ،تو بہت سی خصوصیات اپنے ساتھ لے جاتا ہے،اور ان خصوصیات کا حامل پھر کوئی دوسرا میسر نہیں آتا ، حضرت بھی اپنی بہت سی خصوصیات اپنے ساتھ لے گئے ،اور اپنے پیچھے ایک خلا چھوڑ گئے ،اللہ تعالی ان کی بال بال مغفرت فرمائے ،انہیں جنت میں مقاماتِ عالیہ سے نوازے ،ان کے نسبی اور روحانی پس ماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے ،اور ان کے حسنات میں ان کی تقلید اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین!