میرے ایک دوست نے میرے پاس درج سوالات بھیجے اور خواہش کی کہ میں ان کے جوابات دوں :
۱- کیا شوہر اپنی بیوی کو اس کے مائیکے جانے سے روک سکتا ہے؟ اگر ہاں تو اس کی کوئی حد ہے ؟
۲- کیا مرد اپنے سسرال والوں کو اپنے گھر آنے سے روک سکتا ہے؟
۳- کیا شوہر اپنی بیوی کو اس کے والدین اور دیگر گھر والوں سے ملنے سے روک سکتا ہے؟ اگر وہ ان سے ملنے کے لیے سال میں ایک مرتبہ کسی تیسری جگہ ۱۰ منٹ کے لیے اجازت دے تو کیا اس کا ایسا کرنا صحیح ہے؟ اس کی حد کیا ہے؟
۴- بیوی کے گھر والے اسے جو تحفہ دیں ، کیا شوہر اسے لینے سے بیوی کو روک سکتا ہے؟
۵- کیا شوہر بیوی کو اس کے بھائی یا بہن کی شادی میں شرکت کرنے سے روک سکتا ہے؟
۶- کیا کوئی شخص اپنے بچوں کو ان کے نانیہال والوں سے ملنے سے روک سکتا ہے؟
۷- اگر شوہر بیوی کو اس کے گھر والوں سے فون پہ صرف 6 مہینہ میں ایک بات کرنے کی اجازت دے تو کیا اس کا یہ عمل درست ہے ؟
مجھے انتہائی حیرت ہوئی کہ کیا کسی مسلمان کے ذہن میں ایسے سوالات پیدا ہوسکتے ہیں؟ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر والدین کے بعد متصلاً رشتے داروں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا گیا ہے _ احادیث میں بھی اس کی تاکیدات موجود ہیں _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا اسوہ ہمارے سامنے ہے _ آپ نہ صرف اپنے خونی رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے تھے ، بلکہ آپ کا فیضان سسرالی رشتے داروں تک وسیع تھا _ آپ تو اپنی ازواج مطہرات کے متعلقین اور ملاقاتیوں کے ساتھ بھی رحمت و مؤدت سے پیش آتے ہیں _ پھر ہم کیسے مسلمان ہیں ، جو اپنے اسلام کا دعوٰی اور اپنے رسول کے امتی ہونے کا اعلان تو کرتے ہیں ، لیکن اسلام کی کسی تعلیم اور رسول کے کسی اسوہ کو خاطر میں نہیں لاتے؟؟!!
میں نے اپنے جواب میں تلخی اور برہمی گھولنے کی کوشش کی اور یہ جواب دیا :
” عورت ایک گائے نہیں ، جسے خرید کر لایا گیا ہو اور اس پر جملہ مالکانہ تصرف کا حق مرد کو حاصل ہو _ عورت ایک جیتی جاگتی ، احساسات و جذبات رکھنے والی مخلوق ہے ، جس کے تمام حقوق کا خیال رکھنا شوہر کے لیے ضروری ہے _
شوہر کے سسرالی رشتے داروں سے خود شوہر کا رشتہ قائم ہوگیا ہے _ رشتوں کا پاس و لحاظ رکھنے کا قرآن اور حدیث میں تاکیدی حکم دیا گیا ہے _ سسرالی رشتے داروں سے کسی بھی صورت میں قطعِ تعلق کی شوہر کو اجازت نہیں ہے _
بیوی کے تو وہ حقیقی اور خونی رشتے دار ہیں _ ان سے بیوی کو روکنا اور دور کرنا شوہر کے لیے کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے _