بھیونڈی مانسروور میں تعمیر ہونے والے ایس ٹی پی پلانٹ کی عوام نے کی شدید مخالفت
پلانٹ کی منتقلی پر شروع ہوئی دستخطی مہم
بھیونڈی ( ایس اے ):- بھیونڈی کے مانسرور علاقہ میں تعمیر کئے جارہے ایس ٹی پی پلانٹ (سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ) کی منتقلی کو لے کر مقامی عوام نے اپنی مخالفت سخت کرتے دستخطی مہم شروع کی ہے ۔ پلانٹ کی منتقلی نہ ہونے کے بعد اب مقامی کارپوریٹر کے ساتھ عوام مل کر خود اس کے خلاف احتجاج میں اتر گئی ہے اور ڈور ٹو ڈور دستخطی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ جس کے بعد میمورنڈم دیں کر مذکورہ پلانٹ کی منتقلی کا مطالبہ کیاجائے گا ۔ اگر اس پر بھی انتظامیہ نہیں مانی تو اس پلانٹ کا معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچایا جائے گا ۔ اس طرح کی معلومات کارپوریٹر شیام اگروال نے دی ہیں ۔
بھیونڈی کارپوریشن علاقے میں ” بھواری گٹر کمپنی ” کا کام ایگل کنسٹرکشن کمپنی کے ذریعہ 427 کروڑ 93 لاکھ میں کیا جارہا ہے ۔ ایگل کو شہر بھر میں 160 کلومیٹر سڑک کو کھودکر ڈرینچ لائن ڈالنا ہے اس کے لئے شہر کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر پانچ ایس ٹی پی پلانٹ تعمیر کیا جانا ہیں ۔پربھاگ سمیتی نمبر 3 کا ایس ٹی پی پلانٹ مانسرور کے پاس ایک ہزار مربع میٹر میں تعمیر کیا جارہا ہے ۔ جس کا مانسرور کے لوگوں نے شدید مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ پلانٹ کی تعمیر سے اس علاقے میں منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ یہاں کا ایک ہی ورال دیوی تالاب آلودہ ہوگا ۔ اوسط اونچائی سے 120 فٹ کی اونچائی پر بن رہے اس پلانٹ سے لوگوں کی صحت پر مضر اثر پڑے گا ۔ بھیونڈی کارپوریشن کے وارڈ نمبر 22 کے کارپوریٹر شیام اگروال نے بتایا کہ اس پلانٹ کی تعمیر کے بعد مانسروور کے چھ ہزار افراد کے ساتھ ساتھ پندرہ ہزار سے زیادہ افراد کی صحت پر انتائی بڑا اثر پڑے گا ۔ انھوں نے بتایا کہ اس کی مخالفت مانسرور ، پھولے نگر اور فیناگاون اور فینا پاڑہ میں زوردار طریقے سے ہورہا ہے ۔ اس کے لئے گھر گھر دستخطی مہم چلائی گئی ہے ۔ کارپوریٹر شیام اگروال نے بتایا کہ عوام کی دستخط کے ساتھ میونسپل کمشنر، ضلع آفیسر اور ریاستی حکومت کو میمورنڈم دیں کر اس پلانٹ کو منتقل کر 2011 میں انجور پھاٹا علاقے میں مجوزہ جگہ پر تعمیر کرنے کی مانگ کی جائے گی ۔ شیام اگروال نے بتایا کہ اگر اس کے بعد بھی اس پلانٹ کو نہیں ہٹایا گیا تو مجبورا مقامی لوگوں کی صحت کے تحفظ کے لئے سڑک پر اتر کر احتجاج کرنے کے ساتھ ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا ۔ لیکن کای بھی حالت میں مانسروور پلانٹ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
غور طلب ہے کہ لوک سبھا انتخابات 2019 کے دوران مقامی لوگوں نے نہ۔صرف اس پلانٹ کی مخالفت شروع کی تھی بلکہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ لیکن اس وقت کئی بڑے لیڈران نے عوام کو مذکورہ پلانٹ کی منتقلی کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ الیکشن گزرنے کے بعد یہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا ۔ لیکن اب جب پلانٹ کا کام دوبارہ شروع ہوا تو مقامی لوگ بے چین ہوگئے ہے ۔ لوگوں کا تو یہاں تک الزام ہے کہ مذکورہ پلانٹ بڑے سیاستدانوں کی شہر کے دبنگ کارپوریٹروں کے ذریعہ کرایا جارہا ہے ۔جو بہت بدقسمتی کی بات ہے ۔