بیڑ کے 450 سالہ قدیم مہدویہ قبرستان کی طرف انتظامیہ کی نظر اندازی۔۔۔ناجائز قبضہ جات پر بلدیہ بیڑ کی معانی خیز خاموشی۔۔
لاتور(محمد مسلم کبیر)بلدیہ بیڑ کے صدر ڈاکٹر بھارت بھوشن شرساگر اور سابق وزیر جئے دت شرساگر نے حال ہی میں ایک مخصوص جلسے میں شہر کے تکیہ قبرستان کے دائرہ حدود میں توسیع کے مطالبے پر عمل کرتے ہوئے متّصل چمن کی اراضی کو حدود قبرستان میں دے کر قبرستان کی توسیع کئےجانے کااعلان کیا ہے۔بیڑ کے سینئر رہنما اور تکیہ قبرستان کے سربراہ،سید معین الدین ماسٹر اور موجودہ کارپوریٹر مقیت لالہ نمبو والا نے قبرستان کے حدود میں اضافے کے لئے کافی کوششیں کیں جس پر صدر بلدیہ ڈاکٹر بھارت بھوشن شرساگر نے فوری اس مطالبے کی تکمیل کی۔جو خوش آئند بات ہے۔تاہم جماعت انجمن مہدویہ بیڑ کے 450 سالہ قدیم دائرہ قبرستان جو مومن پورہ میں واقع ہے اس کی مقبوضہ اراضی کو بلدیہ،واپس کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جس کا پی آر کارڈ بیڑ میونسپل کونسل میں موجود ہے۔اس کے برعکس،سیاسی وابستگی کو برقرار رکھنےکی خاطر،99 سالہ لیز پر عدم موجودگی والے کاروبار کے لئے ڈمی تاجر کو جگہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لہذا اب جناب معین ماسٹرصاحب اورکونسلر مقیت لالہ کو مہدویہ قبرستان کے لئے بھی ایسی ہی کوشش کرنی چاہئے اور اس قبرستان کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے میں معاون و مددگار بننے کی ضرورت ہے۔بیڑ میونسپل کونسل کی جانب سے یہاں موجود کنویں کو بھی جاری کیا جانا چاہئے۔صحافی اور جماعت مہدویہ دائرہ قبرستان کمیٹی کے ورکنگ چیئرمین ایس ایم یوسف کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں یہ مطالبات کیے گئے ہیں۔
واضح ہو کہ جماعت مہدویہ دائرہ قبرستان ساڑھے چار سوسالوں کی تاریخ سے معمور ہے۔اس دائرے میں حضرت امامناسیّد محمدجونپوری مہدی موعود علیہِ السلام کے پڑ پوتے حضرت بندگی میاں سیّد عالم فنا فی اللہ بقا باللہ مدفن ہیں اور یہاں زیارت کے لیے اقطائے ہند سے مہدوی حضرات تشریف لاتے ہیں۔یہ قدیم قبرستان مسلم مہدویہ قوم کا ضلع بیڑ میں واحد قبرستان ہے،ضلع میں مہدویہ برادری مختلف مقامات پر آباد ہے اور ان کی میتوں کی تدفین بھی اسی دائرے میں ہوتی ہے۔شہر بیڑ کی بڑھتی آبادکاری کی وجہ سے اب قبرستان وسط میں آیا ہے،قبرستان کے سامنے والی اراضی پر چند لوگ ٹین شیڈ مار کر اس پر ناجائز قابض ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ ڈھگےکالونی۔مومن پورہ بائی پاس روڈ کی تعمیر کے دوران،قبرستان کا پرانا کنواں بھی پتھر، کیچڑ سے بھرکر میونسپل انتظامیہ نے بند کر دیا ہے۔اس ضمن میں مقدمات ہائیکورٹ میں زیر التوا ہیں۔بلدیہ اورضلع کلکٹر کو اس قبرستان کے حفاظت اور ناجائز قبضہ جات کو ہٹانے کے لئے یادداشتیں بھی پیش کی گئیں تاہم اس پر ہنوز کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔چونکہ بیڑ کے مہدویہ جماعت کے افراد کا مقامی سیاست میں کوئی راست تعلق نہیں ہے یا سیاسی اثر ورسوخ اور رہنماؤں کے دست و بازو نہ ہونے کی وجہ سے مہدویہ دائرہ قبرستان اور مہدویہ جماعت نہ انصافی کا شکار ہے۔سرکاری انتظامیہ سطح پر کوئی بھی سیاسی رہنما،جماعت مہدویہ اور قبرستان کو انصاف دلانے کے لئے آگے نہیں آرہا ہے۔اس کے برعکس جو لوگ قبرستان کی جگہ پر نہ جائز تجاوزات کرتے ہیں وہ سیاستدانوں کے قریب ہوتے ہیں اور وقتا فوقتاانہیں سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہوتی ہے۔ان تمام معاملات سے واقف ہونے کے باوجود صدر بلدیہ ڈاکٹر بھارت بھوشن شرساگر نے شہر کے پہلے شہری کی حیثیت سے اپنے گذشتہ پینتیس سالہ دور صدارت میں کبھی بھی مہدویہ برادری کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش نہیں کی۔لہذا آج قبرستان کی حصار بندی جابجامنہدم ہوگئی ہیں۔کنواں،جو حصول آب کا اہم وسیلہ ہےکچرے اور پتھروں سےبھر دیاگیا ہے۔اس کے لئے،اب اس قبرستان کی حالت بہتر بنانے کے لئے سینئر رہنما معین ماسٹر اور کارپوریٹر مقیت لالہ نمبو والا،جماعت مہدویہ دائرہ قبرستان کو بھی، تکیہ قبرستان کی طرح انصاف دلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔جماعت مهدویہ بیڑ کے کارگزارصدر ایس ایم یوسف اور دیگر اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ دائرہ کے اطراف اراضی پر ناجائز قبضہ جات اور تجاوزات کو دور کریں۔نیز قبرستان کا کنواں از سر نوع صاف کر کے بحال کیا جائے۔
Md.Muslim Kabir,
Latur Dist.Correspondent,
Urdu Media
9175978903/9890065959
alkabir786