پارلیمنٹ کس لیے ہے؟ کیا پارلیمنٹ کا قیام اس لیے کیاگیا ہے کہ عوامی نمائندے وہاں جاکر ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائیں، اور ان کے جواب میں ’اللہ اکبر ‘ اور ’جے فلسطین‘ کے نعرے لگائے جائیں؟ یقیناً پارلیمنٹ کے قیام کا یہ مقصد نہیں ہے۔
پارلیمنٹ یعنی لوک سبھا اورراجیہ سبھا میں عوامی نمائندے اور سیاسی پارٹیوں کے منتخب نمائندے اس لیے جاتے ہیں کہ عوامی کام کراسکیں، عوامی شکایتیں رفع کراسکیں، ملک کے اور جن ریاستوں کی وہ نمائندگی کرتے ہیں مسائل حل کراسکیں۔ او رملک بھر میں امن وامام کے قیام کو ممکن بناسکیں، ترقی کے اور تعلیم کے نئے منصوبے لاسکیں او رملک کے بے روزگاروں کےلیے روزگار کی فراہمی کو اورمہنگائی میں کمی کو ممکن بناسکیں۔ ایک مقصد بہترین داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں کا بنانا بھی ہے۔ لیکن پارلیمنٹ میں سب کچھ ہورہا ہے بس مذکورہ مسائل کے حل پر ہی کوئی غور نہیں کیاجارہا ہے۔
نریندر مودی کی قیادت میں ،وہ وزیر اعظم جو ٹھہرے، اس بار بھی وہی پہلے کی پارلیمنٹ کے رنگ ڈھنگ نظر آرہے ہیں۔ جس طرح سے پارلیمنٹ کے آغاز پر یعنی پیر کے روز اور پھر منگل کے روز ہنگامے ہوئے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے یہ اندازہ بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ پارلیمنٹ کا باراں اجلاس ہنگامے کی نذر ہوجائےگا اور کام کاج کے نام پر بس نعرے لگائے جائیں گے۔
منگل کو حلف برداری کے موقع پر جب اویسی کا نام پکارا گیا تو بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ نے ’جے شری رام‘ اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے اور جواب میں حلف برداری کے بعد ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ’جے بھیم، جے میم، جے تلنگانہ، جے فلسطین اور تکبیر اللہ اکبر بلند کی۔ ایوان میں آج ’جے ہندو راشٹر‘ کا نعرہ بھی لگایا گیا۔ایوان کے اندر تو آئین اور جمہوریت کے حق میں نعرے لگنے چاہئیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ اب آئین اور جمہوریت کو طاق پر رکھ دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ سب نعرے آئین کے مطابق ہوں جیسا کہ اسدالدین اویسی نے دعویٰ کیا ہے، لیکن کیا اس طرح کے نعروں سے فرقہ وارانہ تفریق واضح نہیں ہوتی؟ کیا ایسے نعرے اس حقیقت کی غمازی نہیں کرتے کہ اس ملک میں فرقہ پرستی اور عصبیت کی جڑیں خوب گہری ہوچکی ہیں؟ ایسے نعروں سے پتہ چلتا ہے کہ حکمراں جماعت لاکھ آئین اور جمہوریت کی باتیں کرے، اسے نہ آئین کی پرواہ ہے اور نہ ہی جمہوریت کی۔
وہ اب بھی ’ہندو راشٹر‘ کا سپنا دیکھ رہی ہے، وہ سپنا جسے اپنے ووٹوں کے ذریعے اس ملک کی ایک بڑی اکثریت مسترد کرچکی ہے۔ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں نے، یعنی این ڈی اے نے پارلیمنٹ میں لگائے گئے نعروں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوامی میڈینٹ کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بڑی تعداد میں اس ملک کے شہریوں نے بی جے پی کے نظریات کو مسترد کردیا ہے، اس کے ارادوں کو شکست دی ہے، لیکن وہ عوام کی مرضی پر راضی رہنے کی بجائے پھر فرقہ پرستی اور ہندو مسلم کا کھیل کھیلنے میں جٹ گئی ہے۔ افسوس چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار پر ہورہا ہے، جو یہ سب خاموشی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں، انہیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ دن ایک جیسے نہیں رہتے، الٹ پھیر ہوتی رہتی ہے، کہیں ان کی خاموشی سے شہ پاکر بی جے پی ان کے اراکین کو اپنے خیمے میں ہی نہ ہانک لائے۔ انہیں ہوشیار رہنے کی اورفرقہ پرستی کے خلاف بولنے کی ضرورت ہے تاکہ بی جے پی کو یہ محسوس ہوسکے کہ دال آسانی سے نہیں گلنے والی۔۔۔!