
کورونا نے دنیا کے رسم و رواج ہی بدل کر رکھ دیئے ہیں۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ عبادات بھی سخت شرائط و ضوابط کے سایے میں ادا ہو رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور تازہ مثال حج 2020 ہے جہاں عازمین نہ ہی کعبہ کا بوسہ لے سکیں گے، نہ حجر اسود کو چوم سکیں گے، اور نہ ہی رمی جمرات کے لیے کنکریاں اٹھا سکیں گے۔
ایسے حالات پہلے کبھی نہیں پیدا ہوئے اور سبھی دعاء گو ہیں کہ آئندہ بھی کبھی ایسا دن دیکھنے کو نہ ملے۔ چنندہ لوگوں کو حج کی اجازت تو مل گئی، لیکن وہ سعادت نہیں مل پائے گی جو گزشتہ سالوں میں مومنین کو ملا کرتی تھیں۔
مناسک حج کا آغاز ہو چکا ہے، عازمین منیٰ پہنچنے بھی شروع ہو گئے ہیں لیکن اس بار سب کچھ بدلا بدلا ہوا ہے۔ عازمین کو رہنما خطوط کے متعلق تفصیلی جانکاری دے دی گئی ہے اور انھیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ آبِ زم زم اپنی مرضی کے مطابق نہیں پی سکیں گے، نہ ہی وہ شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں جمع کرپایں گے۔ انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ کنکریاں ایک پلاسٹک میں سعودی عرب اتھارٹی کے ذریعہ دستیاب کرائی جائیں گی جو کہ کسی بھی طرح کے جراثیم اور بیکٹیریا سے پاک ہوں گے۔ ان کنکریوں کا استعمال ہی رمی جمرات کے لیے کیا جا سکے گا۔ اسی طرح آب زم زم بھی عازمین حج کو بوتل میں فراہم کیا جائے گا۔